چندرپور میں شیر کے حملے سے چار خواتین ہلاک، علاقے میں خوف و غصے کی لہر
چندرپور میں شیر کے حملے سے چار خواتین ہلاک، علاقے میں خوف و غصے کی لہرچندرپور، 22 مئی (ہ س)۔ مہاراشٹر کے چندرپور ضلع کے سندےواہی تعلقہ میں جمعہ کی صبح ایک ہولناک حادثہ پیش آیا، جہاں جنگل میں تندوا پتہ جمع کرنے گئی چار خواتین شیر کے حملے میں جان
Tiger Attack Chandrapur


چندرپور میں شیر کے حملے سے چار خواتین ہلاک، علاقے میں خوف و غصے کی لہرچندرپور، 22 مئی (ہ س)۔ مہاراشٹر کے چندرپور ضلع کے سندےواہی تعلقہ میں جمعہ کی صبح ایک ہولناک حادثہ پیش آیا، جہاں جنگل میں تندوا پتہ جمع کرنے گئی چار خواتین شیر کے حملے میں جان بحق ہو گئیں۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے جبکہ مقامی دیہاتیوں میں شدید غصہ دیکھا جا رہا ہے۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق گرمی کے موسم میں تندوا پتہ جمع کرنے کا کام شروع ہونے کے بعد دیہی علاقوں کے بڑی تعداد میں افراد روزانہ جنگلات کا رخ کرتے ہیں۔ جمعہ کی صبح بھی گنجےواہی گاؤں کی چند خواتین معمول کے مطابق جنگل میں تندوا پتہ توڑنے گئی تھیں۔بتایا جا رہا ہے کہ صبح تقریباً آٹھ بجے کے دوران جنگل میں موجود ایک شیر نے اچانک خواتین پر حملہ کر دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ اتنا اچانک اور خوفناک تھا کہ خواتین کو سنبھلنے یا بچنے کا موقع تک نہیں ملا۔ شیر نے یکے بعد دیگرے چاروں خواتین کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ان کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ واقعے کے فوراً بعد جنگل اور آس پاس کے علاقوں میں خوف کی فضا پھیل گئی۔ اطلاع ملتے ہی سندےواہی جنگلاتی حلقہ کی افسر انجلی سائیںکر اپنی ٹیم کے ساتھ مقام حادثہ پر پہنچ گئیں۔ محکمہ جنگلات اور پولیس اہلکاروں نے علاقے کا جائزہ لیتے ہوئے پنچنامہ کارروائی شروع کر دی ہے۔جان بحق خواتین کی شناخت کَوڈوبائی داداجی موہُرلے (45)، انوبائی داداجی موہُرلے (46)، سنگیتا سنتوش چودھری (36) اور سنیتا کوشک موہُرلے (33) کے طور پر کی گئی ہے۔ ان خواتین کی اچانک موت سے پورے گاؤں میں غم اور خوف کی کیفیت دیکھی جا رہی ہے۔ واقعے کے بعد مقامی دیہاتی بڑی تعداد میں جمع ہو گئے اور محکمہ جنگلات کے خلاف ناراضگی ظاہر کی۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ علاقے میں گھوم رہے خطرناک شیر کو فوری طور پر قابو میں لیا جائے تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔محکمہ جنگلات نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگلاتی علاقوں میں جاتے وقت خصوصی احتیاط برتیں اور تنہا اندرونی حصوں میں جانے سے گریز کریں۔ اس کے ساتھ ہی حساس مقامات پر گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس دل دہلا دینے والے واقعے نے ایک بار پھر تندوا پتہ سیزن کے دوران جنگلات میں جانے والے مزدوروں اور دیہاتیوں کی سلامتی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سندےواہی تعلقہ میں اس حادثے کے بعد خوف اور بے چینی کا ماحول برقرار ہے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande