
آئی پی ایل 2026 : سی ایس کے کپتان رتوراج گائیکواڑ نے نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی پر فخر کا اظہار کیا
احمد آباد، 22 مئی (ہ س)۔ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 میں چنئی سپر کنگز (سی ایس کے) کی مہم گجرات ٹائٹنز کے خلاف 89 رنوں کی شکست کے ساتھ ختم ہو گئی۔ حالانکہ ٹیم پلے آف میں جگہ بنانے سے چوک گئی، لیکن کپتان رتوراج گائیکواڑ نے پورے سیزن میں ٹیم کی جدوجہد اور نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی پر فخر کا اظہار کیا۔
سی ایس کے نے سیزن کا آغاز مسلسل تین ہار کے ساتھ کیا تھا، لیکن بعد میں ٹیم نے شاندار واپسی کرتے ہوئے پلے آف کی امیدوں کو آخری لیگ میچ تک زندہ رکھا۔ ٹیم نے 14 مقابلوں میں 6 جیت اور 8 شکست کے ساتھ اپنی مہم کا اختتام کیا۔ میچ کے بعد گائیکواڑ نے کہا، ’’سیزن کا آغاز ہمارے لیے کافی مشکل رہا، خاص کر مسلسل تین شکست کے بعد۔ لیکن اس کے بعد جب ہمیں صحیح توازن ملا تو ٹیم نے اچھا کرکٹ کھیلنا شروع کیا۔ بدقسمتی سے پھر چوٹوں نے ہمیں پریشان کیا۔ جیمی اوورٹن اور رام کرشن گھوش جیسے آل راونڈرز کی کمی سے ٹیم کا توازن بگڑ گیا۔ آخری تین میچوں میں ہمیں کبھی ایک بلے باز کم تو کبھی ایک گیند باز کم کے ساتھ میدان میں اترنا پڑا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ٹیم اس وقت تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے اور نوجوان کھلاڑیوں کو تجربہ فراہم کرنے کا کام اس سیزن میں کامیابی کے ساتھ ہوا۔ ’’بہت سے لوگ اس بات کو نہیں مانتے کہ ہم ایک نوجوان ٹیم ہیں اور تبدیلی کے دور میں ہیں۔ ہمارے 8 سے 10 کھلاڑی ایسے تھے جنہوں نے 20 سے بھی کم آئی پی ایل میچ کھیلے تھے۔ ایسے میں چھ جیت حاصل کرنا اور کچھ شاندار مقابلے جیتنا فخر کی بات ہے۔‘‘
گائیکواڑ نے سن رائزرز حیدرآباد کے خلاف دو مقابلوں کو ٹرننگ پوائنٹ بتایا۔ ’’حیدرآباد میں ہم 10 اووروں میں 84 رن نہیں بنا سکے، جبکہ ہمارے پاس سات وکٹیں باقی تھیں۔ چنئی میں بھی ہم انہیں 180 رن تک روک سکتے تھے۔ کچھ مقابلوں میں ہم جیت کے بیحد قریب پہنچے لیکن کامیاب نہیں ہو سکے۔‘‘
سی ایس کے کپتان نے نوجوان کھلاڑیوں کی بھی جم کر تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اس سیزن میں کارتک شرما، اُرول پٹیل اور ڈیوالڈ بریوس جیسے کھلاڑیوں نے خود کو ثابت کیا۔ ’’کارتک نے کافی متاثر کیا۔ ان میں آگے بڑھنے کی بڑی صلاحیت ہے۔ اورول نے پہلی بار پورا سیزن کھیلا اور ایسے میں دباو ہونا فطری ہے۔ لیکن یہ تجربہ مستقبل میں ان کے بہت کام آئے گا۔‘‘
سابق کپتان مہیندر سنگھ دھونی کے مستقبل کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر گائیکواڑ نے کہا، ’’اگلے سال ہی پتہ چلے گا۔ آپ اور میں دونوں کو اگلے سیزن میں ہی معلومات ملیں گی۔ اس سیزن میں ان کی کمی ضرور محسوس ہوئی۔ وہ ایسے کھلاڑی ہیں جو صرف کریز پر رہ کر ہی حریف ٹیم پر دباو بنا سکتے ہیں اور میچ کا رخ بدل سکتے ہیں۔‘‘
سی ایس کے کے لیے یہ سیزن اتار چڑھاو سے بھرا رہا، لیکن ٹیم مینجمنٹ کو امید ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کا یہ تجربہ مستقبل میں فرنچائزی کو مضبوط بنائے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن