مغربی ایشیا میں کشیدگی کی وجہ سے نیپال میں ڈیزل اور پیٹرول کی درآمد پر 34 ارب روپے مزید خرچ ہوئے
کاٹھمنڈو، 22 مئی (ہ س)۔ مغربی ایشیا میں کشیدگی کے اثرات نیپال کی غیر ملکی تجارت پر محسوس ہونے لگے ہیں۔ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور امریکی ڈالر کی مسلسل مضبوطی نے تجارت پر بھی براہ راست اثر ڈالا ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے 10 مہینوں میں نیپال کو گزشتہ
مغربی ایشیا میں کشیدگی کی وجہ سے نیپال میں ڈیزل اور پیٹرول کی درآمد پر 34 ارب روپے مزید خرچ ہوئے


کاٹھمنڈو، 22 مئی (ہ س)۔ مغربی ایشیا میں کشیدگی کے اثرات نیپال کی غیر ملکی تجارت پر محسوس ہونے لگے ہیں۔ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور امریکی ڈالر کی مسلسل مضبوطی نے تجارت پر بھی براہ راست اثر ڈالا ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے 10 مہینوں میں نیپال کو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں صرف ڈیزل اور پیٹرول کی درآمد پر 34 ارب روپے زیادہ خرچ کرنے پڑے ہیں۔محکمہ کسٹمز کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ غیر ملکی تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق ڈیزل کی درآمدات کا حجم کم ہوا ہے تاہم اس کی قیمت نمایاں طور پر مہنگی ہوتی جارہی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق نیپال نے گزشتہ سال اپریل تک 1.147 ملین کلو لیٹر ڈیزل درآمد کیا تھا۔ اس سال اپریل 2026 تک صرف 1.144 ملین کلو لیٹر ڈیزل درآمد کیا گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ درآمدی حجم میں کمی کے باوجود اخراجات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

محکمہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی اشیاءمیں خام سویا بین آئل دوسرے نمبر پر رہا۔ خام سویابین آئل کی درآمد پر 106 ارب روپے بیرون ملک گئے ہیں۔ گزشتہ سال اسی عرصے میں اس کی درآمد پر 81 ارب 89 کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے۔ گزشتہ سال جون سے رواں سال اپریل تک ڈیزل کی درآمد پر مجموعی طور پر 130 ارب 93 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ گزشتہ سال اسی 10 ماہ کے عرصے میں ڈیزل کی خریداری پر 102 ارب 38 کروڑ روپے خرچ کیے گئے تھے۔ اس طرح رواں سال صرف ڈیزل کی مد میں تقریباً 28 ارب 55 کروڑ روپے اضافی ادا کرنے پڑے۔اسی طرح پیٹرول، جو نیپال میں تیسری اہم درآمدی اجناس ہے، اس سال بھی مہنگا ہوا ہے۔ رواں سال پیٹرول کی درآمد کی مد میں 58 ارب 63 کروڑ روپے بیرون ملک گئے ہیں جب کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ رقم 53 ارب 5 کروڑ روپے تھی۔ یعنی 10 ماہ میں پیٹرول کی درآمد پر 5 ارب 48 کروڑ روپے مزید خرچ ہوئے ہیں۔ کوکنگ ایل پی جی کی درآمد پر 46 ارب 13 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران 51 ارب 81 کروڑ روپے کی گیس درآمد کی گئی تھی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande