
اسلام آباد،22مئی (ہ س)۔پاکستان نے ایرانی اور امریکی مذاکرات کو کامیاب بنانے اور اختلافات کو کم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی دو معاملے زیر التوا ہیں، جو کہ اعلیٰ افزودہ یورینیم اور آبنائے ہرمز ہیں۔امریکہ اور ایران دونوں نے تہران کے یورینیم کے ذخیرے کے انجام اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے بارے میں اپنے بالکل متضاد موقف پر قائم رہنے کا مظاہرہ کیا، باوجود اس کے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کی شام اشارہ کیا کہ مذاکرات کے حوالے سے کچھ اچھے اشارے ملے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باور کرایا ہے کہ ان کا ملک بالآخر ایران کا اعلیٰ افزودہ یورینیم کا ذخیرہ حاصل کر لے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاو¿س میں صحافیوں کو بتایا کہ ہم اسے حاصل کر لیں گے، ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہم یہ چاہتے ہیں۔ شاید ہم اسے حاصل کرنے کے بعد تباہ کر دیں، لیکن ہم انہیں اس پر قابض رہنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
دوسری طرف ایرانی فریق نے اس اعلیٰ افزودہ یورینیم کو منتقل کرنے سے انکار پر اصرار کیا، جس کا وزن تقریباً 440 کلوگرام ہے، جو کہ نظریاتی طور پر 6 سے 10 جوہری بم بنانے کے لیے کافی ہے اگر اس کی افزودگی کی شرح 60 فی صد سے بڑھا کر 90 فی صد کر دی جائے۔ذرائع اور ماضی کے انکشافات نے اشارہ کیا تھا کہ تہران نے ملک کے اندر اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں اسے ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ذرائع نے یہ بھی اشارہ کیا کہ اسے کسی تیسرے ملک، جو کہ چین ہو سکتا ہے، منتقل کرنے کی منظوری کا امکان ہے۔آبنائے ہرمز کے حوالے سے، ایران نے اس پر کنٹرول برقرار رکھنے اور جنگ کے بعد نئے قوانین قائم کرنے پر اصرار کیا۔ اس نے ایک نئی اتھارٹی تشکیل دی ہے جو اس اسٹریٹجک بحری گزرگاہ کی نگرانی کرتی ہے۔ کچھ صحافتی رپورٹوں کے مطابق، اس نے متعدد جہازوں پر کچھ فیسیں بھی عائد کی ہیں۔
واضح رہے کہ سمندروں کا بین الاقوامی قانون، خاص طور پر 1982 کا اقوام متحدہ کا کنونشن برائے قانونِ سمندر، بحری گزرگاہوں کے نظام اور ان کے تئیں ریاستوں کے حقوق کو واضح طور پر متعین کرتا ہے، اور کسی بھی ملک کو ان بین الاقوامی بحری گزرگاہوں سے گزرنے سے روکنے سے منع کرتا ہے۔تہران نے اس ہفتے امریکہ کو ایک نئی تجویز پیش کی تھی، لیکن اس کے مواد کے بارے میں جو کچھ علانیہ طور پر کہا گیا وہ ان شرائط کا اعادہ تھا جنہیں ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں، بشمول آبنائے ہرمز پر کنٹرول، جنگی نقصانات کا معاوضہ، پابندیوں کا خاتمہ، اور بیرون ملک منجمد تمام ایرانی اثاثوں اور فنڈز کی رہائی۔تاہم ایرانی وزارت خارجہ نے کل اعلان کیا کہ اسے امریکی تحفظات موصول ہو چکے ہیں اور وہ ان کا مطالعہ کر رہی ہے، جبکہ مذاکرات میں پیش رفت کی صورت میں پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر کے ایران کا دورہ کرنے کی توقع ہے۔ دونوں فریقوں کے نقطہ نظر کو قریب لانے کے لیے پاکستانی کوششیں جاری ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan