
ایران اور امریکہ کو منانے کی کوششوں میں پیش رفت کے اشارے، ڈیموکریٹس ٹرمپ کے اختیارات پر لگام لگانے میں ناکام
تہران/واشنگٹن، 22 مئی (ہ س)۔ مشرقِ وسطیٰ اور آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے درمیان امریکہ-ایران امن معاہدہ کرانے کی کوششوں میں پیش رفت کے اشارے ملے ہیں۔ ثالث ممالک دونوں کو ٹکراو سے پیچھے ہٹنے کے لیے منا رہے ہیں۔ فی الحال کوشش یہ ہے کہ دونوں کے درمیان ایک عارضی معاہدہ ہو جائے۔ اس دوران امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فوجی مہم سے متعلق اختیارات کو محدود کرنے کی ڈیموکریٹس کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ اس بل کے لیے ہاوس میں لائی گئی ووٹنگ کی تجویز منظور نہیں ہو سکی۔
الجزیرہ، سی بی ایس نیوز اور ایران کی آئی ایس این اے نیوز ایجنسی کی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کئی ممالک کے ذریعے بات چیت چل رہی ہے۔ دونوں فریقین تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے ایک معاہدے کا باضابطہ ڈھانچہ تیار کرنے کی کوشش میں ایک دوسرے کو پیغامات اور مسودے بھیج رہے ہیں۔ ایران کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ معاہدہ قریب ہے، جبکہ ایک اور ذریعے کا کہنا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کوئی حتمی معاہدہ ہو پائے گا یا نہیں۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو اس سے پہلے کہا تھا کہ معاہدے کے ’’کچھ اچھے اشارے‘‘ مل رہے ہیں۔ دوسری طرف، امریکی صدر ٹرمپ نے انتباہ دیا تھا کہ اگر ایران نے اپنے یورینیم کے ذخائر کو ختم نہیں کیا، تو اس کے خلاف ’’بیحد سخت‘‘ اقدامات کیے جائیں گے۔ اس درمیان امریکہ میں ہاوس ریپبلکنز نے ایران جنگ بل پر ووٹنگ منسوخ کر دی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ٹرمپ کے اختیارات محدود ہو جاتے اور انہیں جنگ سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑتا۔ ووٹنگ کو جون تک کے لیے ٹال دیا گیا ہے۔
اس بل کو پیش کرنے والے ڈیموکریٹک رکنِ پارلیمنٹ گریگری میکس نے کہا، ’’ہمارے پاس کافی ارکان موجود تھے۔ اسی وجہ سے وہ ایک سیاسی کھیل کھیل رہے ہیں۔‘‘ ہاوس کے ڈیموکریٹک رہنماوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا، ’’ریپبلکنز کے کنٹرول والا ہاوس مسلسل ٹرمپ انتظامیہ کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی (سبسڈیری کمپنی) کی طرح برتاو کر رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ریپبلکنز نے بزدلی دکھاتے ہوئے جنگی اختیارات سے متعلق تجویز پر ہونے والی ووٹنگ منسوخ کر دی۔ یہ ایک ایسا قانون تھا جو دونوں پارٹیوں کی حمایت سے پاس ہو جاتا اور صدر کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعہ کو ختم کرنے پر مجبور کرتا۔‘‘
ہاوس ریپبلکن رہنما اسٹیو اسکیلائز نے صحافیوں کو بتایا کہ ووٹنگ اس لیے ٹالی گئی تاکہ ان ارکانِ پارلیمنٹ کو ووٹ دینے کا موقع مل سکے جو اس وقت موجود نہیں تھے۔ ہاوس کے اسپیکر مائیک جانسن نے ہاوس چیمبر سے باہر نکلتے وقت صحافیوں کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن