
کولکاتا، 21 مئی (ہ س)۔ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے کولکاتا کے رہائشی ظفر ریاض عرف رضوی کو پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے لیے مبینہ طور پر جاسوسی میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ این آئی اے نے اسے بدھ کے روز گرفتار کیا، جب کہ جمعرات کو اس معاملے سے متعلق ایک سرکاری بیان جاری کیا گیا۔ ایجنسی کے مطابق ملزم ہندوستان کے سیکورٹی اپریٹس سے متعلق خفیہ معلومات پاکستانی انٹیلی جنس اہلکاروں تک پہنچا رہا تھا۔ یہ کارروائی ایک کیس کے سلسلے میں کی گئی ہے جس میں بھارت مخالف دہشت گردی کی سازش شامل ہے۔
این آئی اے کے مطابق، ظفر ریاض کے خلاف ایک لک آؤٹ سرکلر پہلے ہی جاری کیا جا چکا تھا، اور انہیں 'اشتہاری مجرم' قرار دینے کی کارروائی بھی جاری تھی۔ ملزم کو بھارتیہ نیا ئے سنہتا، آفیشل سیکریٹس ایکٹ، اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔
تفتیشی ایجنسی نے بتایا کہ ظفر ریاض 2005 سے پاکستان اور بھارت کے درمیان اکثر سفر کرتا رہا ہے۔ اس عرصے کے دوران پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے ان سے رابطہ قائم کیا اور مبینہ طور پر رقم اور پاکستانی شہریت کی پیشکش کر کے اسے جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث کیا۔ بتایا گیا ہے کہ اس کی شادی ایک پاکستانی خاتون سے ہوئی ہے، اور اس کے بچے بھی پاکستان کے شہری ہیں۔
این آئی اے کے مطابق، ملزم نے جاسوسی اور دہشت گردی سے متعلق کارروائیوں میں ملوث دوسروں کی سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنے کے لیے پاکستانی انٹیلی جنس اہلکاروں کو ہندوستانی موبائل نمبروں کے لیے ون ٹائم پاس ورڈ فراہم کیے تھے۔ یہ نمبر واٹس ایپ اکاؤنٹس کو چالو کرنے کے لیے استعمال کیے گئے تھے، جو بعد میں ہندوستان میں سرگرم دیگر ملزمان کے ساتھ خفیہ رابطے کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیے گئے۔
ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ظفر ریاض کو اس سے قبل انڈین پینل کوڈ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت جاسوسی سے متعلق ایک کیس میں سزا سنائی گئی تھی۔ فی الحال، این آئی اے پورے جاسوسی نیٹ ورک کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے اور اس سازش میں ملوث دیگر افراد کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد