مغربی بنگال کے فالٹا اسمبلی حلقہ میں دوبارہ پولنگ پرامن طریقے سے اختتام پذیر، 86.11 فیصد ووٹنگ درج کی گئی
کولکاتا، 21 مئی (ہ س)۔ مغربی بنگال کے جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے فالٹا اسمبلی حلقے کے لیے دوبارہ پولنگ جمعرات کو پرامن طریقے سے ختم ہوئی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق شام 5 بجے تک 86.11 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ تاہم ووٹنگ شام 7 بجے تک جاری رہی، اس لیے یہ تعداد مزید
فالٹا اسمبلی حلقہ میں دوبارہ پولنگ پرامن طریقے سے اختتام پذیر، 86.11 فیصد ووٹنگ درج کی گئی


کولکاتا، 21 مئی (ہ س)۔ مغربی بنگال کے جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے فالٹا اسمبلی حلقے کے لیے دوبارہ پولنگ جمعرات کو پرامن طریقے سے ختم ہوئی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق شام 5 بجے تک 86.11 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ تاہم ووٹنگ شام 7 بجے تک جاری رہی، اس لیے یہ تعداد مزید بڑھنے کی امید ہے۔

پولنگ اسٹیشنز پر دن بھر ووٹرز کی لمبی قطاریں دیکھی گئیں اور شدید گرمی اور نمی کے باوجود لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے پرجوش رہے۔

الیکشن کمیشن کے عہدیداروں نے بتایا کہ سہ پہر 3 بجے تک 74.10 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ آخری دو گھنٹوں میں ووٹروں کی بڑی تعداد پولنگ سٹیشنوں کے لیے نکلی جس کے نتیجے میں ووٹر ٹرن آؤٹ میں نمایاں اضافہ ہوا۔ شام تک کسی بے ضابطگی کی اطلاع نہیں ملی۔

فالٹا اسمبلی حلقہ کے تمام 285 پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کی گئی جس میں 261 اہم اور 24 معاون پولنگ اسٹیشن شامل ہیں۔ پورے خطے میں سیکیورٹی کے بے مثال انتظامات کیے گئے تھے۔ مرکزی فورسز کی تقریباً 35 کمپنیاں تعینات کی گئیں، جب کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 30 کوئیک رسپانس ٹیمیں فعال کی گئیں۔ ہر بوتھ پر سینٹرل آرمڈ پولیس فورس کے آٹھ اہلکار تعینات تھے۔

الیکشن کمیشن نے اس بار بھی نگرانی کے سخت انتظامات رکھے۔ دو ویب کیمرے تمام پولنگ سٹیشنز کے اندر اور ایک باہر نصب کیا گیا تھا۔ ووٹنگ کے عمل کو ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور چیف الیکٹورل آفیسر کے دفاتر سے لائیو ویب کاسٹ کیا گیا۔ کئی حساس علاقوں میں خصوصی نگرانی بھی رکھی گئی۔

تاہم، ووٹنگ کے ابتدائی مرحلے کے دوران، ترنمول کانگریس کے امیدوار جہانگیر خان کے گھر کے قریب کچھ بوتھوں پر پارٹی ایجنٹوں کی غیر موجودگی کی اطلاعات ہیں۔ بتایا گیا کہ ترنمول کانگریس کے ایجنٹ کم از کم دو بوتھوں پر غیر حاضر تھے۔ اس کے باوجود ووٹنگ کے عمل پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا اور زیادہ تر بوتھس پر ووٹنگ پرامن طور پر جاری رہی۔

قابل ذکر ہے کہ 29 اپریل کو ہوئے اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں فالٹا حلقہ میں ووٹنگ ہوئی تھی۔ بعد میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں خرابی، ووٹنگ کے عمل میں بے ضابطگیوں اور ویب کیم کی ریکارڈنگ سے چھیڑ چھاڑ کے الزامات کے بعد الیکشن کمیشن نے پورے اسمبلی حلقہ میں دوبارہ پولنگ کرانے کا فیصلہ کیا۔ تحقیقات میں کم از کم 60 بوتھون میں بے ضابطگیاں پائی گئیں۔

اس درمیان دوبارہ پولنگ سے ٹھیک پہلے، ترنمول کانگریس کے امیدوار جہانگیر خان نے مقابلہ سے دستبرداری کا اعلان کرکے سیاسی ہلچل مچا دی۔

تاہم الیکشن کمیشن کے قوانین کے مطابق ان کا نام الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر موجود رہا۔ ترنمول کانگریس نے اس فیصلے کو امیدوار کا ذاتی فیصلہ قرار دیا۔

فالٹا سیٹ کو سیاسی طور پر بھی اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ ڈائمنڈ ہاربر لوک سبھا حلقہ میں آتی ہے، جس کی نمائندگی ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری اور لوک سبھا رکن ابھیشیک بنرجی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پوری ریاست کی سیاسی توجہ اس پر مرکوز تھی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande