
ریاض ،21مئی (ہ س )۔
50واں گرینڈ حج سمپوزیم گزشتہ دنوںبدھ کے روز جدہ میں انعقاد پذیر ہوا۔ اس کا افتتاح وزارت حج و عمرہ کے وزیر توفیق الربیعہ نے کیا۔ جبکہ خصوصی تقریب کا اہتمام وزارت حج و عمرہ نے مجلس علماء کے تعاون سے کیا تھا۔ سمپوزیم میں زعماء ، ماہرین تعلیم اور علمائے دین کی بڑی تعداد نے شرکت کی جو دنیا بھر سے خصوصی طور پر آئے تھے۔
وزیر حج و عمرہ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا سعودی قیادت عازمین حج کی خدمت کے لیے غیر معمولی طور پر کمٹمنٹ رکھتی ہے۔ اس لیے اعلیٰ ترین معیار پر عازمین کے لیے سہولیات و خدمات کی فراہمی مملکت کی ترجیح میں اہم ہے۔ حج کے موقع پر غیر ضروری طور پر رش سے عازمین حج کو بچانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے انتظامات کیے گئے ہیں۔
سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ صالح الفوزان کی نمائندگی کرتے ہوئے مجلس علماء کے رکن فہد الماجد نے کہا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا فرمان ہے کہ ہم اللہ کے مہمانوں کے آرام و سکون کا خاص خیال رکھیں تاکہ انہیں ادائیگی حج میں کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہ ہو۔
وزارت حج و عمرہ کے نائب وزیر عبدالفتاح مشاط نے کہا اس سمپوزیم کے ذریعے دنیا بھر سے علماء اور ماہرین کو حج آپریشنز کے سلسلے میں اکٹھا کیا جاتا ہے۔ یہ سمپوزیم فکری ورکشاپ کا کام کرتا ہے۔
اس موقع پر عازمین حج کی خدمت کے سلسلے میں ہونے والی مملکت کی کوششوں، عازمین حج کے لیے آگاہی پروگراموں کے علاوہ آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ڈیٹا اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر توجہ مرکوز کی گئی۔
سعودی وزیر صحت کے معاون محمد العبد العلی نے اس موقع پر نظام صحت کے سلسلے میں ضوابط و ہدایات پر گفتگو کی۔ انہوں نے اس موقع پر عازمین حج کے لیے باآسانی حج کی ادائیگی کے حوالے سے صحت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ العبد العالی نے مزید کہا عازمین حج کی صحت صرف ایک ضرورت نہیں ہے بلکہ اس سلسلے میں مملکت کے ویڑن کا سنگ بنیاد ہے۔
اس موقع پر سائنس، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ذریعے عازمین حج کے لیے حج کے تجربے کو جدید بنانے پر بھی بات چیت کی گئی۔ جس کے نتیجے میں عازمین حج کے لیے خدمات کو بہتر بنانا اہم ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ