
سپریم کورٹ نے بار کونسل آف دہلی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی کی اجازت نہیں دی
نئی دہلی، 21 مئی (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے بار کونسل آف دہلی (بی سی ڈی) کے انتخابات کے لئے ووٹوں کی گنتی جاری رکھنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی زیرقیادت بنچ نے کہا کہ اس معاملے میں سنگین مسائل شامل ہیں اور پہلے سے جاری حکم امتناعی ابھی تک برقرار رہے گا۔
جمعرات کو سینئر وکیل وکاس سنگھ نے چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ کے سامنے کہا کہ حتمی نتائج کا اعلان نہ ہونے پر بھی گنتی کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ چیف جسٹس نے پھر کہا کہ ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے، کیس میں سنگین مسائل ہیں، آپ ہائی کورٹ کے سامنے اپنے دلائل پیش کریں، یہ صرف ایک عبوری انتظام ہے، ہم ہائی کورٹ پر اثر انداز نہیں ہونا چاہتے۔
سپریم کورٹ نے بی سی ڈی انتخابات میں بے ضابطگیوں اور چھیڑ چھاڑ کے بیلٹ پیپرز کے استعمال کے الزامات کے بعد ووٹوں کی گنتی پر روک لگا دی تھی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے اس پر روک لگانے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کو سماعت کے لیے دہلی ہائی کورٹ کو بھیج دیا۔
سماعت کے دوران وکیل شوبھا گپتا نے دلیل دی کہ دہلی بار کونسل کے انتخابات کی گنتی چھیڑ چھاڑ کے بیلٹ پیپرز کا استعمال کر رہی تھی۔ اس سے ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اس معاملے کے موثر حل کے لیے اصل ریکارڈ اور بیلٹ پیپرز کی جانچ کی ضرورت ہوگی، اس لیے دہلی ہائی کورٹ کے لیے اس معاملہ کی سماعت کرنا مناسب ہوگا۔ سپریم کورٹ نے انتخابات سے متعلق تمام درخواستوں کو دہلی ہائی کورٹ میں منتقل کر دیا اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے اس ہفتے ایک خصوصی بنچ تشکیل دینے کی درخواست کی۔
بی سی ڈی کے انتخابات 21، 22 اور 23 فروری کو ہوئے تھے۔ گنتی 7 اپریل کو شروع ہوئی تھی۔ 221 امیدوار میدان میں ہیں۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی