
بھوپال، 21 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش نے شیر خوار بچوں کی شرحِ اموات میں تاریخی بہتری درج کرتے ہوئے سال 14-2013 کے 52 سے کم ہوکر کر سال 24-2023 میں 35 فی ہزار زندہ پیدائش تک پہنچ گیا ہے۔ ریاست میں صحت کی خدمات کی توسیع، ڈیجیٹل اختراعات اور نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال کے یونٹس کی مضبوطی سے یہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
رابطہ عامہ افسر انکش مشرا نے جمعرات کو بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی قیادت میں ریاست میں ژچہ بچہ کی صحت خدمات کو مستحکم کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان انتھک کوششوں کے نتیجے میں مدھیہ پردیش نے بچوں کی صحت کے اشاریوں میں نمایاں بہتری درج کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومتِ ہند کی سیمپل رجسٹریشن سسٹم (ایس آر ایس) رپورٹ 24-2023 کے مطابق، ریاست میں شیر خوار بچوں کی شرحِ اموات (آئی ایم آر) سال 14-2013 کے 52 فی 1000 زندہ پیدائش سے گھٹ کر سال 24-2023 میں 35 فی 1000 زندہ پیدائش ہو گئی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں 17 پوائنٹس کی تاریخی کمی کے ساتھ مدھیہ پردیش نے بچوں کی شرحِ اموات میں نمایاں سدھار درج کرتے ہوئے قومی سطح پر اپنی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے۔ یہ کامیابی ریاست میں صحت کی خدمات کی مضبوطی، موثر حکمتِ عملیوں اور ہدف پر مبنی کوششوں کی کامیابی کی عکاسی کرتی ہے۔
سال 2014 سے 2024 تک کے اعداد و شمار کے مطابق، سال بہ سال بچوں کی شرحِ اموات میں مسلسل کمی درج کی گئی ہے۔ سال 2014 میں فی ہزار زندہ پیدائش پر بچوں کی شرحِ اموات 52 تھی، جو 2015 میں گھٹ کر 50 ہو گئی۔ 2016 اور 2017 میں یہ شرح 47 رہی، جبکہ 2018 میں معمولی اضافے کے ساتھ 48 ہو گئی۔ اس کے بعد 2019 میں یہ 46، 2020 میں 43، 2021 میں 41 اور 2022 میں 40 درج کی گئی۔ آگے یہ شرح 2023 میں گھٹ کر 37 اور 2024 میں 35 فی ہزار زندہ پیدائش رہ گئی۔ مجموعی طور پر، ان سالوں میں بچوں کی شرحِ اموات میں مستقل سدھار دیکھنے کو ملا ہے۔
رابطہ عامہ افسر نے بتایا کہ ریاست میں نوزائیدہ بچوں اور شیر خواروں کی صحت کی خدمات کو مستحکم کرنے کے لیے 62 خصوصی نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت کے یونٹس (ایس این سی یو)، 200 نوزائیدہ بچوں کو مستحکم کرنے کے یونٹس (این بی ایس یو) اور ماؤں و نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال کے یونٹس (ایم این سی یو) کی توسیع کی گئی ہے، جہاں ’’زیرو سیپریشن‘‘ ماڈل کے ذریعے ماں اور نوزائیدہ بچے کی مشترکہ دیکھ بھال، جلد ماں کا دودھ پلانے اور کنگارو مدر کیئر (کے ایم سی) کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ڈیجیٹل اختراعات کے تحت ’ای-شیشو‘ پہل کے ذریعے میڈیکل کالجوں اور ضلع اسپتالوں کے نوزائیدہ بچوں کے یونٹس کو ماہر ٹیلی-مینٹرنگ سے جوڑا گیا ہے۔ اس پہل کو آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس)، دہلی اور آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس)، رائے پور کا تکنیکی اور کلینکل مینٹرنگ تعاون حاصل ہو رہا ہے۔ ساتھ ہی انمول 2.0، ایم پی سی ڈی ایس آر، ڈی ایس ایس اور ایف بی این سی سافٹ ویئر جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ہائی رسک کیسز کی شناخت، نوزائیدہ بچوں کی نگرانی اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کے نظام کو مضبوط کیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن