
ایم پی کی پٹاخہ فیکٹری دھماکے کا اہم ملزم گرفتار، بیرون ملک سے لوٹتے ہی دہلی ایئرپورٹ پر پکڑا گیا، اب تک 5 ملزمان پولیس کی گرفت میں
بھوپال/دیواس، 21 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دیواس ضلع میں ہوئے خوفناک پٹاخہ فیکٹری دھماکے کے معاملے میں پولیس کو ایک بڑی کامیابی ہاتھ لگی ہے۔ حادثے کے بعد سے ہی ملک سے باہر فرار چل رہے فیکٹری کے اصل مالک اور اہم ملزم مکیش وج کو پولیس نے چین سے واپس آتے ہوئے ہی دہلی ایئرپورٹ پر گرفتار کر لیا۔ مکیش جمعرات کو ہی چین کے گوانگژو شہر سے ہندوستان لوٹا تھا۔
گزشتہ 14 مئی کو دیواس کے ٹونک کلاں علاقے میں واقع ایک پٹاخہ فیکٹری میں صبح تقریباً 11.30 بجے یکے بعد دیگرے کئی زوردار دھماکے ہوئے تھے۔ یہ دھماکہ اتنا بڑا تھا کہ آس پاس کے مکانات تک ہل گئے اور فیکٹری کی دیواریں ملبے میں تبدیل ہو گئیں۔ اس دل دہلا دینے والے حادثے میں 20 سے زیادہ مزدور شدید طور پر جھلس گئے تھے، جبکہ اتر پردیش اور بہار کے رہنے والے 6 مزدوروں (دھیرج، سنی، سمت، امر اور گڈو سمیت دیگر) کی موت ہو گئی تھی۔
دیواس کے ایس پی پنیت گہلوت نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے 13 رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی تھی اور فرار ملزمان پر 10-10 ہزار روپے کا انعام بھی مقرر کیا تھا۔ پولیس کی مستعدی کی وجہ سے گزشتہ 6 دنوں کے اندر اس معاملے میں 5 اہم ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
مکیش وج واقعے کا اہم ملزم ہے۔ دہلی کا رہنے والا مکیش وج اس فیکٹری کا اصل مالک ہے، جو بے نامی سرمایہ کاری کر کے اسے چلا رہا تھا، جسے آج دہلی ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا۔ دیواس پولیس نے مکیش وج کی گرفتاری کے لیے ملک گیر ’’لک آوٹ سرکولر‘‘ جاری کیا تھا۔ اس کی وجہ سے دہلی ایئرپورٹ پر ہی اس کی شناخت ہوئی اور اسے حراست میں لے لیا گیا۔
پولیس کی خصوصی ٹیم نے اس معاملے میں اتراکھنڈ کے ساکن ایک اور فرار ملزم مہیش چوہان کو بھی دہلی سے گرفتار کیا ہے۔ اس سے پہلے فیکٹری کے جوائنٹ ڈائریکٹر کپل وج کو دو دن پہلے دہلی سے ہی پکڑا گیا تھا، جبکہ پولیس نے واقعے کے 24 گھنٹے کے اندر کارخانے کے لائسنس ہولڈر انل مالویہ اور اہم ٹھیکیدار محمد ایاز کو گرفتار کیا تھا۔ اس طرح اب تک 6 دن کے اندر 5 ملزمان کی گرفتاری ہو چکی ہے۔
جانچ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یہ پٹاخہ فیکٹری محض چھ مہینے پہلے ہی شروع کی گئی تھی۔ زخمی مزدوروں کے بیانات کے مطابق، بارش سے پہلے پٹاخوں کا ایک بہت بڑا آرڈر پورا کرنے کے دباو میں فیکٹری میں طے شدہ حد سے کہیں زیادہ دھماکہ خیز مواد لا کر رکھا گیا تھا۔ فیکٹری کا لائسنس بھلے ہی مقامی ساکن انل مالویہ کے نام پر تھا، لیکن اس کا پورا انتظام اور مالیاتی سرمایہ کاری دہلی کا مکیش وج کر رہا تھا۔ مکیش فیکٹری میں جدید مشینیں لگا کر بڑے پیمانے پر آٹومیشن کرنے کی طاق میں تھا۔ اب جانچ ایجنسیاں اس پورے بے نامی کاروبار اور کالے دھن کی سرمایہ کاری کی باریک بینی سے جانچ کر رہی ہیں۔ اہم ملزم مکیش وج کو دیواس لا کر ایس آئی ٹی آگے کی پوچھ گچھ کرے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن