
پلوامہ حملے کا ماسٹر مائنڈ حمزہ برہان مقبوضہ کشمیر میں نامعلوم بندوق برداروں کے حملے میں مارا گیا
سرینگر، 21 مئی (ہ س )۔ سال 2019 میں ہوئے پلوامہ دہشت گردانہ حملے کا ماسڈٹرمائنڈ حمزہ برہان مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں مارا گیا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، مظفرآباد میں ہونے والے ایک حملے میں وہ متعدد گولیوں سے زخمی ہوگیا۔ اسے اگرچہ فوری طور پر اس کے ساتھیوں نے نزدیکی اسپتال پہنچایا تاہم ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔ حمزہ بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیم البدر سے وابستہ تھا اور اسے ڈاکٹر کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ پلوامہ کے رہائشی برہان کو 2022 میں مرکزی وزارت داخلہ نے دہشت گرد قرار دیا تھا۔ حمزہ برہان پلوامہ کے رتنی پورہ علاقے کے کھربٹ پورہ گاؤں میں پیدا ہوا، وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بہانے 2017 میں پاکستان چلا گیا تھا۔ تاہم بعد میں اس نے کالعدم تنظیم البدر میں شمولیت اختیار ک لی اور بالآخر کمانڈر کے عہدے تک پہنچ گیا۔ غور طلب ہے کہ وہ وادی کشمیر میں کئی دہشت گردانہ حملوں میں ملوث تھا۔ حمزہ برہان کی شناخت 2019 کے پلوامہ دہشت گردانہ حملے کے ماسٹر مائنڈ میں سے ایک کے طور پر ہوئی ہے، جسے پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں نامعلوم بندوق برداروں نے ہلاک کر دیا ہے۔ سال 2019 میں اس دہشت گرد کی مدد سے دہشت گردوں نے پلوامہ کے لتہ پورہ میں سرینگر جموں قومی شاہراہ پر سی آر پی ایف کے قافلے پر خودکش حملہ کیا تھا جس کے دوران سی آر پی ایف کے تقریبا پچاس کے قریب جوان شہید ہوئے تھے۔ اس واقع کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان حالات زبردست کشیدہ ہوگئے تھے جبکہ بھارت کی طرف سے پاکستان میں کئ دہشت گرد ٹھکانوں پر حملے کئے گئے تھے۔ ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Aftab Ahmad Mir