ملک میں تیزی سے ترقی پذیر گرین ایکسپریس -وے نے سڑک کے سفر کی نوعیت کو تبدیل کر دیا: گڈکری
نئی دہلی، 21 مئی (ہ س)۔ مرکزی سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے وزیر نتن گڈکری نے کہا کہ ملک میں تیزی سے ترقی پذیر گرین ایکسپریس وے اور ایکسیس کنٹرول ہائی ویزسے سڑک کے سفر کی نوعیت پوری طرح سے تبدیل ہو رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی-پونے ایکسپریس وے کی
GADKARI-AMCHAM-EXPRESSWAY-GREEN-HIGHWAY


نئی دہلی، 21 مئی (ہ س)۔ مرکزی سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے وزیر نتن گڈکری نے کہا کہ ملک میں تیزی سے ترقی پذیر گرین ایکسپریس وے اور ایکسیس کنٹرول ہائی ویزسے سڑک کے سفر کی نوعیت پوری طرح سے تبدیل ہو رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی-پونے ایکسپریس وے کی تعمیر کے بعد، دونوں شہروں کے درمیان ہوائی خدمات تقریباً بند ہو گئی تھیں اور اب دہلی-دہرا دون اور دہلی-جے پور روٹس پر بھی ایسی ہی صورتحال پیدا ہو رہی ہے، کیونکہ سڑک کے ذریعے سفر کا وقت کافی کم ہو گیا ہے۔

امریکن چیمبر آف کامرس ان انڈیا (ایم چیم) کی سالانہ لیڈر شپ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نتن گڈکری نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، اختراع، تحقیق، مہارت اور کامیاب طریقہ کار مستقبل کی معیشت کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ علم کو دولت میں تبدیل کرنا مستقبل کا حتمی اقتصادی ماڈل ہے اور ہندوستان اسی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان اب تیزی سے مدور معیشت کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں فضلہ کواثاثے میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ روڈ ٹرانسپورٹ کی وزارت سڑک کی تعمیر میں پرانے میونسپل سالڈ ویسٹ کا استعمال کر رہی ہے۔ اب تک، سڑک کی تعمیر میں 9 ملین ٹن سے زیادہ میونسپل سالڈ ویسٹ استعمال ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بایو بٹومین پر کامیاب تحقیق مکمل کر لی گئی ہے اور اب 30 فیصد تک بایو بٹومین کو پٹرولیم بٹومین میں ملایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ 15 فیصد ربڑ پاو¿ڈر اور استعمال شدہ ٹائروں سے حاصل ہونے والا 7 فیصد پلاسٹک بھی سڑک کی تعمیر میں استعمال ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی سے بنائی گئی سڑکیں کامیاب ثابت ہوئی ہیں۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ ملک کے سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک لاجسٹک اخراجات ہیں۔ ہندوستان میں لاجسٹکس کی لاگت پہلے تقریباً 16 فیصد تھی، لیکن اب یہ سنگل ہندسوں تک پہنچ رہی ہے۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، بنگلورو، کانپور اور چنئی کی حالیہ رپورٹوں میں لاجسٹک اخراجات میں تقریباً چھ فیصد کمی دکھائی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گرین ہائی وے اور کنٹرولڈ ایکسیس ایکسپریس ویز اس تبدیلی کے سب سے بڑے محرک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلے دہلی-دہرا دون راستے میں آٹھ سے نو گھنٹے لگتے تھے لیکن نئی گرین ہائی وے کی تعمیر کے بعد یہ فاصلہ تقریباً دو گھنٹے میں طے کیا جا رہا ہے۔ پہلے دہلی-ممبئی روٹ پر 48 گھنٹے لگتے تھے لیکن ایکسپریس وے کا 80 فیصد کام مکمل ہونے کے بعد یہ سفر تقریباً 12 گھنٹے میں ممکن ہو گیا ہے۔ دہلی-جے پور روٹ پر سفر کا وقت گھٹ کر ڈھائی گھنٹے رہ گیا ہے۔ دہلی میرٹھ روٹ پر چار گھنٹے کا سفر اب 45 منٹ میں مکمل ہو گیا ہے۔ بنگلورو-میسور روٹ پر سفر کا وقت ساڑھے تین گھنٹے سے کم ہو کر تقریباً ایک گھنٹہ رہ گیا ہے۔

گڈکری نے کہا کہ ملک بھر میں 36 ایکسیس کنٹرولڈ ہائی ویز تیار کی جا رہی ہیں۔ شمالی ہندوستان کو جنوبی ہندوستان سے جوڑنے کے لئے بڑے پیمانے پر سڑکوں کے منصوبے چل رہے ہیں۔ دہلی-ممبئی ایکسپریس وے کو سورت تک بڑھایا جا رہا ہے، جہاں سے ناسک، احمد نگر، سولاپور، کرنول، چنئی، بنگلورو، کنیا کماری، کوچی، اور ترواننت پورم تک سڑک کے نئے منصوبے تیار کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان پروجیکٹوں کی تکمیل کے بعد دہلی اور چنئی کے درمیان فاصلہ تقریباً 340 کلو میٹر کم ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں سرنگ کی تعمیر کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔ پہلے منالی سے روہتانگ پاس تک سفر کرنے میں ساڑھے تین گھنٹے لگتے تھے لیکن اب سرنگ کی تکمیل کے بعد یہ فاصلہ صرف آٹھ منٹ میں طے کیا گیا ہے۔ کارگل کے علاقے میں پانچ نئی سرنگیں تعمیر کی جا رہی ہیں اور ایشیا کی سب سے لمبی سرنگ سمجھی جانے والی زوجیلا ٹنل کا تقریباً 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ سونمرگ اور سری نگر کے علاقوں میں نئے سرنگ کے پروجیکٹ بھی چل رہے ہیں۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ ہندوستان حیاتیاتی ایندھن پر انحصار کم کرنے کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ملک ہر سال تقریباً 22 لاکھ کروڑ مالیت کے حیاتیاتی ایندھن درآمد کرتا ہے، جو فضائی آلودگی کی ایک بڑی وجہ بھی ہے۔ حکومت متبادل ایندھن جیسے ایتھنول، میتھانول، بائیو ڈیزل، مائع قدرتی گیس، بجلی اور ہائیڈروجن پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہائیڈروجن مستقبل کا ایندھن ہے اور ہندوستان میں کئی پائلٹ پروجیکٹ شروع کیے گئے ہیں۔ ہائیڈروجن ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کو 10 راستوں پر آزمایا جا رہا ہے، جن میں گریٹر نوئیڈا-دہلی-آگرہ، احمد آباد-وڈودرا-سورت، پونے-ممبئی، جمشید پور-کلنگا نگر، ترواننت پورم-کوچی اور کوچی-ارناکولم شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹاٹا کے ہائیڈروجن ایندھن سے چلنے والے ٹرکوں کی آزمائش بھی شروع ہو گئی ہے۔

گڈکری نے کہا کہ ہندوستان اب الیکٹرولائزر کی پیداوار میں دنیا کے سرکردہ ممالک میں سے ایک بن رہا ہے۔ حکومت کا مقصد ہائیڈروجن کی پیداوار کی لاگت کو 1 ڈالر فی کلوگرام تک لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی باقیات، آرگینک میونسپل ویسٹ اور بائیو ماس سے ہائیڈروجن اور بایو سی این جی بنانے پر بھی کام جاری ہے۔ دہلی میں پرالی جلانے سے پیدا ہونے والی آلودگی کو کم کرنے کے لیے 400 سے زیادہ پروجیکٹ شروع کیے گئے ہیں، جن میں سے 200 پروجیکٹوں پر کام شروع ہو چکا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande