نیٹ پیپر لیک معاملے میں لاتور سے ڈاکٹر منوج شرورے گرفتار
لاتور، 21 مئی (ہ س)۔ ملک بھر میں ہلچل مچا دینے والے نیٹ سوالیہ پرچہ لیک معاملے میں سی بی آئی نے لاتور میں ایک اور بڑی کارروائی کرتے ہوئے ماہرِ اطفال ڈاکٹر منوج شرورے کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کے لیے امتحان سے قبل
Crime-Maha-Latur-NEET-arrest


لاتور، 21 مئی (ہ س)۔ ملک بھر میں ہلچل مچا دینے والے نیٹ سوالیہ پرچہ لیک معاملے میں سی بی آئی نے لاتور میں ایک اور بڑی کارروائی کرتے ہوئے ماہرِ اطفال ڈاکٹر منوج شرورے کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کے لیے امتحان سے قبل لیک شدہ نیٹ سوالیہ پرچہ خریدا تھا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق تفتیشی ایجنسیوں کو شبہ ہے کہ ڈاکٹر شرورے نے یہ سوالیہ پرچہ موٹےگاؤکر سے خریدا تھا۔اس معاملے کی جانچ کے دوران سی بی آئی نے بدھ (20 مئی) کو پونے میں کئی طلبہ کے گھروں پر چھاپے مارے تھے، جس کے بعد دیر رات لاتور سے ڈاکٹر منوج شرورے کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا۔ بعد ازاں تفتیش کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ ڈاکٹر منوج شرورے ماہرِ اطفال ہیں اور اصل میں لاتور کے رہنے والے ہیں۔ ان کا سدھی ونائک بال اسپتال لاتور کے جونا اوسا روڈ علاقے میں واقع ہے۔نیٹ پیپر لیک معاملہ سامنے آنے کے بعد گزشتہ آٹھ دنوں سے سی بی آئی لاتور میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہے۔ سی بی آئی نے پہلے موٹےگاؤکر سے سخت پوچھ گچھ کی اور بعد میں اسے گرفتار کیا۔ تفتیش کے دوران موٹےگاؤکر سے ملی معلومات کی بنیاد پر سی بی آئی ڈاکٹر شرورے تک پہنچی۔ سی بی آئی نے گزشتہ شام ڈاکٹر شرورے کے اسپتال پر چھاپہ مارا اور تقریباً ساڑھے چار گھنٹے تک ان سے سخت پوچھ گچھ کی۔ذرائع کے مطابق مختلف سوالات کے دوران ڈاکٹر شرورے نے مبینہ طور پر جرم قبول کر لیا، جس کے بعد سی بی آئی نے انہیں گرفتار کر لیا۔ والدین کے خلاف یہ پہلی کارروائی ہونے کے باعث لاتور سمیت پورا مہاراشٹر حیرت اور تشویش میں مبتلا ہو گیا ہے۔ تفتیش کے دوران سی بی آئی نے ڈاکٹر شرورے کا موبائل فون بھی ضبط کر لیا ہے۔ سی بی آئی اب اس بات کی جانچ کرے گی کہ وہ کن افراد سے رابطے میں تھے، موٹےگاؤکر سے ان کا رابطہ کب سے تھا اور آیا انہوں نے نیٹ کے سوالیہ پرچے کسی اور کو فروخت یا وائرل کیے تھے یا نہیں۔

اس کے علاوہ سی بی آئی نے اسپتال سے اہم دستاویزات بھی ضبط کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر شرورے کے بینک کھاتوں کی بھی جانچ کی جائے گی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ موٹےگاؤکر کے ساتھ ان کے مالی لین دین ہوئے تھے یا نہیں، اور اگر ہوئے تھے تو کتنی رقم کا لین دین کیا گیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande