
نیو یارک ،21مئی (ہ س )۔
ایران اور امیکہ کے دریان جاری جنگ میں متعدد دعوے اور قیا س آرائیوں کا بازار گرم ہے۔ اس جنگ کے دوران امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں قیادت کی تبدیلی کے متعدد کوششیں کیں لیکن انہیں ناکامی ہی ہاتھ لگی ہے اور رہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد بھی جنگ کا سلسلہ جاری ہے ۔دریں اثنا امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کو نئی قیادت کے طور پر سامنے لانے کی منصوبہ بندی کی تھی تاہم یہ منصوبہ جلد ہی ناکام ہو گیا۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ چاہتے تھے کہ ایران میں اقتدار کسی اندرونی شخصیت کو منتقل کیا جائے اور اس مقصد کے لیے محمود احمدی نژاد کا نام زیرِ غور آیا تھا۔
اخبار نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی حملے میں تہران میں احمدی نژاد کے گھر کو نشانہ بنایا گیا جس کا مقصد انہیں مبینہ نظر بندی سے نکالنا تھا، حملے میں وہ زخمی ہوئے لیکن زندہ بچ گئے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر احمدی نژاد اس منصوبے سے آگاہ تھے تاہم حملے کے بعد وہ بددل ہو گئے اور امریکہ و اسرائیل کے ساتھ تعاون سے پیچھے ہٹ گئے، اس کے بعد سے ان کے موجودہ مقام اور حالت کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔
نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ محمود احمدی نژاد ماضی میں اسرائیل مخالف بیانات، ایرانی جوہری پروگرام کی حمایت اور امریکہ مخالف مو¿قف کے باعث سخت گیر رہنما سمجھے جاتے تھے تاہم بعد میں ان کے ایرانی قیادت سے اختلافات بڑھ گئے تھے۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکہ و اسرائیل نے وینزویلا میں نکولس مادورو کے خلاف اپنایا گیا ماڈل ایران میں دہرانے کی کوشش کی تھی مگر یہ حکمتِ عملی کامیاب نہیں ہو سکی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ