
واشنگٹن، 21 مئی (ہ س)۔
امریکہ میں ایبولا کا خوف اب واضح ہوتا جا رہا ہے۔ پیرس سے ڈیٹرائٹ( مشی گن )جانے والی ایئر فرانس کی فلائٹ کو بدھ کے روز کینیڈا کے شہر مونٹریال کی طرف موڑ نا پڑ گیا۔ در اصل فلائٹ میں اچانک اس خبر سے ہلچل مچ گئی کہ مسافروں میں سے ایک کا تعلق ڈیموکریٹک ریپبلک کانگو سے ہے اورفلائٹ نے ایبولا کی وبا سے متعلق امریکی پابندیوں کی تعمیل کرنے میں لاپرواہی کی ہے۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق، یو ایس کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (سی بی پی) کے ترجمان نے کہا کہ یہ ایئر فرانس کی غلطی تھی۔ ایئر فرانس نے غلطی سے مسافر کو امریکا جانے والی پرواز میں سوار کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایبولا وائرس کے خطرے کو کم کرنے کے لیے پروازوں پر پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ ان کے مطابق مسافر کو جہاز میں سوار نہیں ہونا چاہیے تھا۔ جس کی وجہ سے پرواز کو ڈیٹرائٹ میٹروپولیٹن وین کاونٹی ایئرپورٹ پر اترنے سے روک دیا گیا۔ اس کے بعد پرواز کو کینیڈا کے شہر مونٹریال کی طرف موڑ دیا گیا۔
سی بی پی کے ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ یہ شخص آخری بار کانگو میں کب تھا اورکیا اس میں ایبولا وائرس کی علامات دکھائی دے رہے تھے۔ فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ اویئر کے مطابق، پیرس-چارلس ڈی گال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے چلی ایئر فرانس کی پرواز 378 شام 5:15 بجے (مشرقی وقت)مونٹریال ٹروڈو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتری۔ کانگو سے آنے والے مسافر کی حالت فوری طور پر سامنے نہیں آسکی۔ یہ بھی واضح نہیں تھا کہ آیا پرواز دیگر مسافروں کے ساتھ ڈیٹرائٹ تک جاری رہے گی۔
یاد رہے کہ وفاقی حکام نے پیر کے روز اعلان کیا تھاکہ جن لوگوں کے پاس امریکی پاسپورٹ نہیں ہے اور وہ گزشتہ تین ہفتوں میں کانگو، یوگانڈا یا جنوبی سوڈان کا سفر کر چکے ہیں، انہیں ملک میں داخلے سے روک دیا جائے گا۔ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے محکمہ نے تصدیق کی ہے کہ پابندیاں جمعرات سے شروع ہونے والی تمام پروازوں پر لاگو ہوں گی۔ ایسی تمام پروازوں کو ورجینیا کے واشنگٹن ڈلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ پرہی اترنا ہوگا، جہاں تمام مسافروں کی اسکریننگ کی جائے گی۔
مشرقی کانگو میں ایبولا کے پھیلنے کی تصدیق افریقہ کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن نے 15 مئی کو کی تھی۔ عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے بدھ کے روز کہا کہ ایبولا کے اب تک کم از کم 600 مشتبہ کیس رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں وائرس سے 139 مشتبہ اموات بھی شامل ہیں۔ امریکی صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ایبولا کی یہ نئی وبا بنڈی بوگیو اسٹرینسے منسلک ہے، جس کی فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج موجود نہیں ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی