گرگا کا قومی پرچم پروڈکشن سینٹر بند ہونے کے دہانے پر
گرگا کا قومی پرچم پروڈکشن سینٹر بند ہونے کے دہانے پر دھارواڑ، 20 مئی (ہ س)۔ ایک زمانے میں مجاہدین آزادی کی سرزمین، کھادی تحریک اور قومی پرچم کا مرکز، کرناٹک کے دھارواڑ ضلع کا گرگا گاوں شدید اقتصادی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ ملک کے سرکاری ترنگے ک
کھادی


گرگا کا قومی پرچم پروڈکشن سینٹر بند ہونے کے دہانے پر

دھارواڑ، 20 مئی (ہ س)۔

ایک زمانے میں مجاہدین آزادی کی سرزمین، کھادی تحریک اور قومی پرچم کا مرکز، کرناٹک کے دھارواڑ ضلع کا گرگا گاوں شدید اقتصادی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ ملک کے سرکاری ترنگے کے لیے ہینڈ لوم فیبرک تیار کرنے والا واحد بی آئی ایس سے تصدیق شدہ مرکز ہونے کے باوجود، گرگا کھشتریا سیوا سنگھہ فروخت میں گراوٹ، مزدوروں کی قلت اور بدلتی ہوئی مارکیٹ تقاضوں کی وجہ سے اپنی بقا کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔

گرگا گاوں، دھارواڑ سے تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، تاریخی، ثقافتی اور کھادی روایات کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ مہاراشٹر کی سرحد سے متصل یہ گاوں کبھی سماجی تنازعات اور منشیات کی لت کے لیے بھی جانا جاتا تھا، لیکن تعلیم، بیداری اور صنعتی ترقی نے گاو¿ں کاماحول تبدیل کردیا ہے۔

گرگا ملک کے ان چند مراکز میں سے ایک ہےجنہیں سرکاری ترنگے کے لیے ہاتھ سے بنے ہوئے کپڑے تیار کرنے کی اجازت ہے۔ مہاراشٹر کے لاتور ضلع کے قریب ادگیر کھادی سنٹر کے پیداوار بند کردینے کے بعد، گرگا ہی اب ملک کا واحد بی آئی ایس سے تصدیق شدہ قومی پرچم بنانے کا مرکز ہے۔ دھارواڑ تعلقہ کھیتریا سیوا سنگھہ کے صدر بسواپربھو ہوسکیری نے کہا کہ گرگا نے قومی پرچم کی تیاری میں تاریخی کردار ادا کیا ہے، لیکن آج پورا کھادی شعبہ بحران کا شکار ہے۔

کم فروخت کی وجہ سے 200 کروڑ روپے سے زیادہ کا اسٹاک پڑا ہواہے۔

بسواپربھو ہوسکیری کے مطابق، 200 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کی کھادی مصنوعات ریاست بھر کے مختلف کھادی مراکز پر فروخت نہیں ہونے کے سبب پڑی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا، کھادی کارکنوں کو دی جانے والی اجرت مارکیٹ کے دیگر شعبوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئے کارکن اس شعبے میں شامل نہیں ہو رہے ہیں اور پیداوار میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کھادی کے کپڑے مہنگے ہونے ،رکھ رکھاومیں مشکل ہونے اور جدید فیشن کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے فروخت متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کے نوجوان جدید ڈیزائن اور برانڈڈ ملبوسات کی طرف تیزی سے راغب ہو رہے ہیں۔ کھادی تنظیمیں بدلتی ہوئی مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے میں پیچھے رہ گئی ہیں۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ کھادی دوسرے ٹیکسٹائل برانڈز کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہے۔

حکومتی اقدامات کاغذوں تک محدود ہیں۔

ریاستی حکومت نے ہدایات جاری کیں کہ سرکاری ملازمین کو ہفتے میں ایک بار کھادی پہننے کی ضرورت ہے، لیکن اس اقدام کو موثر طریقے سے نافذ نہیں کیا گیا۔ تاہم، کرناٹک اسٹیٹ لا یونیورسٹی نے طلباءاور ملازمین کے لیے ہفتے میں ایک بار کھادی پہننا لازمی قرار دیا ہے، جسے کھادی کو فروغ دینے کے لیے ایک مثبت اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ گرگا کھادی سنٹر میں تقریباً 400 افراد کام کرتے ہیں، جن میں 250 اسپنرز اور 150 بنکر شامل ہیں۔ قومی پرچم کے لیے کپڑے کے علاوہ کھادی کی دیگر مصنوعات بھی یہاں تیار کی جاتی ہیں۔ ہوسکیری کے مطابق یہاں کی مصنوعات اعلیٰ کوالٹی کی ہیں لیکن مارکیٹ کی صورتحال کے باعث پوری پیداوار فروخت کرنا ممکن نہیں ہے۔

کھادی کا وجود خطرے میں

تحریک آزادی کی پہچان کھادی آج مارکیٹ کے مقابلے میں پیچھے دکھائی دیتی ہے۔ قوم کے فخر اور قومی تشخص سے وابستہ گرگا جیسے تاریخی مراکز کا وجود لمحہ فکریہ بنتا جا رہا ہے۔ اگر حکومت اور معاشرے نے بروقت موثر اقدامات نہ کیے تو خدشہ ہے کہ قومی پرچم کی پیداوار کا یہ باوقار مرکز تاریخ بن جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande