
واشنگٹن،20مئی (ہ س)۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز وائٹ ہاو¿س میں کانگریس پکنک کی سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ جنگ جلد از جلد ختم کرے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ اس سے قبل ٹرمپ نے متنبہ کیا تھا کہ امریکہ ایران پر نیا حملہ کر سکتا ہے، جبکہ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کی راہ ہموار کرنے کے لیے انہوں نے ایک بڑے حملے کو روک دیا تھا۔ دوسری طرف ایرانی فوج نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ نے ایسا کیا تو وہ نئے محاذ کھول دیں گے۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاو¿س میں صحافیوں کو بتایا کہ وہ ایران پر واشنگٹن کے حملے دوبارہ شروع کرنے کے حکم کو مو¿خر کرنے سے پہلے اس سے صرف ایک گھنٹہ دور تھے۔ رواں سال 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے شروع کیے گئے حملوں کے تقریباً 40 روز بعد، 8 اپریل سے جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے ایک معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کے لیے رابطے جاری ہیں۔ تاہم واشنگٹن اور تہران کے موقف میں خاص طور پر ایٹمی معاملے کے حوالے سے اب بھی بہت بڑا فاصلہ ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ کسی ایسے ملک کے ساتھ مذاکرات کیسے ہوتے ہیں جسے آپ سخت شکست دے رہے ہوں، وہ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں اور معاہدے کے لیے گڑگڑاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ ہمیں دوبارہ جنگ نہیں لڑنی پڑے گی، لیکن ہمیں ان پر ایک اور بڑا حملہ کرنا پڑ سکتا ہے، میں ابھی اس بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتا۔
ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمی نیا نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکہ نے اپنے حملے دوبارہ شروع کیے تو ان کا ملک امریکہ کے خلاف نئے محاذ کھول دے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی فوج جنگ بندی کے دورانیے کو جنگ کا ہی ایک مرحلہ سمجھتی ہے اور اس نے اپنی جنگی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھایا ہے۔امریکی صدر نے معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں حملے دوبارہ شروع کرنے کے لیے چند دنوں کی مہلت مقرر کی ہے۔ انہوں نے دو یا تین دن، شاید جمعہ، ہفتہ یا اتوار، یا پھر اگلے ہفتے کے آغاز کی ایک محدود مدت کی طرف اشارہ کیا۔ ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ انہوں نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے رہنماو¿ں کی درخواست پر ایران پر ایک نیا حملہ آخری لمحات میں مو¿خر کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ تہران کے ساتھ معاہدے کے بہت اچھے مواقع موجود ہیں۔ لیکن انہوں نے واضح کیا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں انہوں نے امریکی فوج کو کسی بھی لمحے ایران پر مکمل اور بڑے پیمانے پر حملہ کرنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایات دی ہیں۔ ٹرمپ نے جنگ بندی میں غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کی تھی اور اشارہ دیا تھا کہ وہ ایک ایسی جنگ سے نکلنا چاہتے ہیں جو سیاسی طور پر بوجھ ثابت ہو رہی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کی وجہ سے عالمی معیشت میں خلل پڑا ہے اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے امریکیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے منگل کے روز ایکس پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے بیانات میں دھمکی کو امن کے موقع کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔قطر نے منگل کے روز تصدیق کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کو کسی نتیجے تک پہنچنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے دوحہ میں ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ہم سفارتی راستے کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کی بھی حمایت کرتے ہیں جس نے فریقین کو قریب لانے اور حل تلاش کرنے میں سنجیدگی دکھائی ہے ... اور ہمارا ماننا ہے کہ اس معاملے کو مزید وقت چاہیے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan