
نئی دہلی، 20 مئی (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے ذات پات کی مردم شماری کے خلاف دائر درخواست کو خارج کر دیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی قیادت والی بنچ نے کہا کہ یہ حکومت کا پالیسی فیصلہ ہے اور اس میں مداخلت کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔
درخواست میں ذات کی بنیاد پر ہونے والی گنتی کو آئندہ مردم شماری سے خارج کرنے کی استدعا کی گئی تھی، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ اس کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ پسماندہ ذاتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی تعداد کا پتہ لگائے تاکہ ان کے فائدے کے لیے فلاحی منصوبے بنائے جا سکیں۔ عدالت نے کہا کہ مردم شماری ذات کی بنیاد پر ہونی چاہیے یا نہیں یہ مکمل طور پر حکومتی پالیسی کا معاملہ ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں مداخلت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ لہذا، مفاد عامہ کی عرضی کو خارج کر دیا جاتا ہے۔ یہ عرضی سدھاکر گمولا نے دائر کی تھی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد