
نئی دہلی،20مئی (ہ س)۔مختلف مرکزی وزارتوں اور محکموں میں اسسٹنٹ سکریٹری کے طور پر فی الحال خدمات انجام دینے والے 2024 بیچ کے آئی اے ایس افسران کے ایک گروپ نے آج (20 مئی 2026) کو راشٹرپتی بھون میں صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو سے ملاقات کی۔آئی اے ایس افسران سے خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو نے کہا کہ آل انڈیا سروسز ، خاص طور پر آئی اے ایس نے ہمارے ملک کی ترقی میں اہم رول ادا کیا ہے۔ اب جب کہ ملک ترقی کے اعلی دائرے میں داخل ہو چکا ہے ، لہذا افسران سے توقعات بھی بہت زیادہ ہیں۔
صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے کہا کہ نوجوان افسران کو متنوع شعبوں میں کام کرنے کا منفرد موقع ملے گا۔ کئی موقعوں پر ، وہ بعض مخصوص شعبوں میں ماہرین کی ٹیموں کی سربراہی کریں گے۔ اس لیے ان کے سیکھنے کا دائرہ کار اور رفتار بہت وسیع اور تیز ہونا چاہیے۔ صدر جمہوریہ نے اس بات پر زور دیا کہ مختلف شعبوں اور حالات کے مطابق ڈھالنے کی ان کی صلاحیت غیر معمولی ہونی چاہیے۔صدر جمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو نے کہا کہ افسران کی غیر جانبداری ان کی انصاف پسندی کا اشارہ ہوگی۔ ان کی حساسیت شمولیت کے تئیں ان کے عزم کا پیمانہ ہوگی۔ ان کی ساکھ ان کی شفافیت اور مسلسل کارکردگی پر تشکیل پائے گی۔ ان کی دیانت داری ، جو ان کے ذاتی اور پیشہ ورانہ طرز عمل سے متعین ہوتی ہے ، انہیں عوامی مفاد میں فیصلہ کن طور پر کام کرنے کی اخلاقی ہمت فراہم کرے گی۔ صدر جمہوریہ محترمہ مرمو نے کہا کہ افسران کو ہمدردی کو معقولیت کے ساتھ ضم کرنا ہوگا۔ انہیں جذباتی ہوئے بغیر حساس ہونا چاہیے۔ انہیں اصولوں پر عمل کرنا ہے لیکن بڑے مقاصد کو بھی نظر انداز نہیں کرنا ہے۔
صدر جمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو نے کہا کہ اخلاقیات اور حکمرانی ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں۔ محترمہ مرمو نے اس بات پر زور دیا کہ افسران کو ایماندار اور اخلاقی ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ انہیں نتائج بھی پیش کرنے ہوتے ہیں۔صدر جمہوریہ محترمہ مرمو نے کہا کہ فیصلہ کرنے سے گریز کرنا اخلاقیات نہیں ہے۔ بلکہ ، عوامی مفاد اور قائم شدہ نظم و ضبط کے مطابق صحیح فیصلے کرنا اخلاقیات کے حقیقی جوہر کی نمائندگی کرتا ہے۔ جس طرح انصاف کی فراہمی میں تاخیر کو انصاف سے انکار سمجھا جاتا ہے ، اسی طرح انتظامی فیصلہ سازی میں تاخیر بھی لوگوں کو ان کے جائز مفادات سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔
صدر جمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو نے کہا کہ جمہوریت کا مقصد اپنے عوام کی امنگوں کو پورا کرنا ہے اور ان امنگوں کو ان کے منتخب نمائندوں کے ذریعے واضح کیا جاتا ہے۔ لہذا افسران کا یہ فرض ہے کہ وہ عوام کے مفاد میں ان نمائندوں کی طرف سے اٹھائے گئے مسائل کو ترجیح دیں۔صدرجمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو نے کہا کہ بہتے ہوئے دھارے کے ساتھ محض بہتے چلے جانا کسی محنت کا متقاضی نہیں ہوتا۔ 'وکست بھارت' کے ہدف کو حاصل کرنے اور ہمارے معاشرے کو ترقی کی بلند ترین سطح تک پہنچانے کے لیے افسران کو اکثر حالات کے دھارے کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا۔ صدر جمہوریہ نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اپنی طرز فکر اور عمل کے مرکز میں ہمیشہ بھارت کے عوام، خصوصاً معاشرے کے محروم طبقات کو رکھیں، خواہ وہ فیلڈ میں ہوں یا دفتر میں کام کر رہے ہوں۔ انہوں نے اس اعتماد کا بھی ظاہر کیا کہ وہ ایک ترقی یافتہ اور جامع بھارت کی تشکیل میں قیمتی اور بے مثال کردار ادا کریں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan