
نئی دہلی، 20 مئی (ہ س)۔آل انڈیا آرگنائزیشن آف کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹس کی طرف سے بدھ کو ملک میں آن لائن فارمیسیوں اور زیادہ چھوٹ دینے کے خلاف بلائی گئی ایک روزہ ملک گیر ہڑتال کا ملا جلا اثر پڑا۔آل انڈیا آرگنائزیشن آف کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ (اے آئی او سی ڈی) آن لائن فارماسیوٹیکل کمپنیوں (فارمیسی) کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اے آئی او سی ڈی کا کہنا ہے کہ وہ 1.24 ملین دوافروشوں (کیمسٹ، فارماسسٹ) اور تقسیم کاروں کی نمائندگی کرتا ہے۔ تاہم نیشنل کیپیٹل ریجن (دہلی-این سی آر) میں کچھ منظم فارمیسی چین کھلی ہوئی تھیں۔ کیمسٹ، فارماسسٹ اور ادویات تقسیم کرنے والوں کی ملک گیر ہڑتال کی کال کے بارے میں پوچھے جانے پر، ایک سیلز ایگزیکٹو نے کہا، ’ہم اس ہڑتال کا حصہ نہیں ہیں۔‘
اے آئی او سی ڈی کے جنرل سکریٹری راجیو سنگھل نے کہا کہ تمام دواخانے بند ہیں۔ ’ہمیں اپنی ریاستی اکائیوں سے اطلاع ملی ہے کہ ہر کوئی ملک گیر ہڑتال میں حصہ لے رہا ہے۔ ہم نے ہسپتالوں کے اندر کام کرنے والی نرسنگ ہوم فارمیسیوں پر کوئی دباو¿ نہیں ڈالا ہے۔‘ سنگھل نے دہرایا کہ جی ایس آراے آئی او سی ڈی 817 اورجی ایس آر 220 نوٹیفیکیشن کے خلاف احتجاج کر رہا ہے کیونکہ وہ مو¿ثر طریقے سے آن لائن منشیات بیچنے والوں کو منظم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مناسب جسمانی تصدیق کے بغیر ادویات کی فروخت کا باعث بن رہا ہے۔ کارپوریٹ حمایت یافتہ آن لائن کمپنیاں گہری چھوٹ دے رہی ہیں، جس سے خریداروں کو نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی او سی ڈی اپنے اراکین کے مفادات کے تحفظ کے لیے ایک روزہ ملک گیر ہڑتال کے بعد مزید حکمت عملی پر غور کرے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan