
بھوپال، 20 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کی دارالحکومت بھوپال میں ماڈل اور ایکٹریس ٹویشا شرما کی موت کے معاملے میں ریاستی حکومت عدالت میں بیل ریجیکشن (ضمانت منسوخی) کی درخواست دائر کرے گی۔ حکومت اس معاملے میں مرکزی بیورو برائے تفتیش (سی بی آئی) کی جانچ کے لیے خط بھی لکھے گی۔
یہ بات وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے ٹویشا کے اہل خانہ سے کہی۔ بدھ کو ٹویشا شرما کے اہل خانہ وزیرِ اعلیٰ سے ملاقات کے لیے منترالیہ پہنچے تھے۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ٹویشا کے اہل خانہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت ان کی پوری مدد کے لیے تیار ہے۔
ٹویشا کی فیملی کی جانب سے بھوپال کی عدالت میں دوبارہ پوسٹ مارٹم کے لیے درخواست دی گئی تھی، جس پر سماعت جاری ہے۔ عدالت سے اجازت ملتی ہے تو ٹویشا کا دوبارہ پوسٹ مارٹم ایمس دہلی میں کرایا جا سکتا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ٹویشا کے والد نونیدھی شرما سے کہا کہ عدالت دوبارہ پوسٹ مارٹم کے سلسلے میں فیصلہ لیتی ہے تو حکومت میت کو ایمس دہلی تک بھجوائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بھوپال عدالت میں بیل ریجیکشن (ضمانت مسترد کرنے) کی درخواست دائر کرے گی۔ ساتھ ہی معاملے کی سی بی آئی جانچ کے لیے خط لکھے گی۔
دوسری طرف پولیس نے فرار شوہر سمرتھ کے خلاف لک آوٹ نوٹس جاری کر دیا ہے۔ پولیس کمشنر سنجے سنگھ نے بتایا کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) ہر اینگل سے معاملے کی جانچ کر رہی ہے اور ملزم کی سرگرمی سے تلاش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی جانچ میں معاملہ خودکشی کا معلوم ہو رہا ہے۔ متوفیہ کے گلے پر ملے نشان بیلٹ سے پھانسی لگانے کے ہیں۔ ٹویشا کی موت کے بعد دو دن کے اندر ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی تھی۔
وہیں، ٹویشا کو انصاف دلانے کے مطالبے کو لے کر بدھ کو بھوپال میں ریٹائرڈ فوجیوں نے بائیک ریلی نکالی۔ بڑی تعداد میں سابق فوجیوں نے لال پریڈ گراونڈ پہنچ کر مظاہرہ کیا اور معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ اٹھایا۔
ریلی کے بعد ریٹائرڈ جنرل شیام سندر شریواستو کی قیادت میں ایک وفد نے اسپیشل ڈی جی انیل کمار شرما سے ملاقات کر کے مطالباتی خط سونپا۔ ریٹائرڈ جنرل نے بتایا کہ معاملے کو لے کر وزیرِ اعلیٰ اور گورنر کو بھی میمورنڈم دیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اسپیشل ڈی جی نے غیر جانبدارانہ جانچ کا بھروسہ دلایا ہے۔ ساتھ ہی فیملی کے مطالبات کو بھی ان کے سامنے رکھا گیا۔ ڈی جی نے ہمیں یقین دہانی کرائی ہے کہ جانچ پوری طرح سے غیر جانبدارانہ ہوگی۔ ڈی جی کا کہنا ہے کہ باہر نہ جا کر فیملی یہیں جانچ کرائے تو ٹھیک رہے گا۔ پولیس پر کسی کا دباو نہیں ہے۔
ادھر، اس معاملے میں قومی کمیشن برائے خواتین (نیشنل کمیشن فار ویمین) نے از خود نوٹس لیا ہے۔ کمیشن نے مدھیہ پردیش کے چیف سکریٹری اور ڈی جی پی کو خط لکھ کر معاملے میں فوری، غیر جانبدارانہ اور وقت کے اندر جانچ کی ہدایات دی ہیں۔ کمیشن نے سات دن کے اندر ایکشن ٹیکن رپورٹ (اے ٹی آر) مانگی ہے۔ ساتھ ہی ایف آئی آر میں لگائی گئی دفعات، ملزم شوہر سمرتھ سنگھ کی گرفتاری، سی سی ٹی وی فوٹیج، کال ریکارڈ اور فارنسک شواہد پر اب تک ہوئی کارروائی کی معلومات بھی طلب کی ہیں۔ کمیشن نے متاثرہ کی فیملی کو کسی بھی طرح کی دھمکی یا دباؤ سے سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایات بھی دی ہیں۔
سینئر وکیل اور راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ وویک تنکھا نے بھی ٹویشا کی موت کے معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو اور مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے جانچ مرکزی ایجنسی سے کرائی جانی ضروری ہے، تاکہ متاثرہ فیملی کو انصاف مل سکے۔
گزشتہ 11 مئی کو ٹویشا شرما کی لاش گھر میں پھانسی پر لٹکی ملی تھی۔ اگلے دن 12 مئی کو بھوپال ایمس میں لاش کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ اگلے دن 13 مئی کو اہل خانہ نے پولیس کمشنر کے دفتر پہنچ کر ہنگامہ کیا۔ اس کے بعد رات میں پولیس نے ٹویشا کی ساس گری بالا سنگھ اور ان کے بیٹے سمرتھ کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔
ٹویشا کے اہل خانہ سبکدوش جج گری بالا سنگھ اور وکیل شوہر سمرتھ پر سنگین الزامات لگا رہے ہیں۔ فیملی کا کہنا ہے کہ شادی کے بعد سے ٹویشا ذہنی طور پر پریشان رہتی تھی اور گھر کا ماحول اس کے موافق نہیں تھا۔ گری بالا سنگھ اور سمرتھ کا رویہ اکثر بدتمیزی والا رہتا تھا اور ٹویشا کے ساتھ ان کا برتاو ٹھیک نہیں تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن