

بھوپال، 20 مئی (ہ س)۔ آن لائن دواوں کی فروخت (ای-فارمیسی) کی مخالفت میں بدھ کو مدھیہ پردیش کے دوا تاجروں نے ملک گیر اپیل پر ریاست گیر تالا بندی کی۔ آل انڈیا آرگنائزیشن آف کیمسٹس اینڈ ڈرگسٹس (اے آئی او سی ڈی) کے بینر تلے منعقد اس ایک روزہ علامتی ہڑتال کی وجہ سے ریاست کی تقریباً 41 ہزار دواوں کی دکانوں کے شٹر گرے رہے۔
ہڑتال کے باعث اکیلے راجدھانی بھوپال میں 3 ہزار سے زائد میڈیکل اسٹورز صبح سے ہی بند رہے۔ تاہم، عام لوگوں کو شدید پریشانی سے بچانے کے لیے اسپتالوں کے اندر چلنے والے میڈیکل اسٹورز کو اس بند سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود عام مریضوں اور ان کے لواحقین کو بھاری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
بھوپال کے تھوک دوا بازار میں صبح سے ہی کیمسٹوں کا جمع ہونا شروع ہو گیا تھا۔ یہاں سے تمام تاجر نعرے بازی کرتے ہوئے کلکٹریٹ پہنچے اور کلکٹر پرینکا مشرا کو میمورنڈم سونپا۔ اے آئی او سی ڈی کے جنرل سکریٹری راجیو سنگھل نے اس سلسلے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ براہِ راست عوام کی صحت سے جڑا ہوا ہے۔ فی الحال آن لائن ملنے والی دواوں کی کوالٹی اور ان کی نگرانی کے لیے کوئی پختہ نظام موجود نہیں ہے۔
کھنڈوا میں بھی میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر گووردھن گولانی کی قیادت میں تاجروں نے کلکٹریٹ پہنچ کر مظاہرہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈرگ ایکٹ میں کہیں بھی دواوں کی آن لائن فروخت کی گنجائش نہیں ہے۔ کورونا کے دور میں اسے عارضی طور پر چھوٹ دی گئی تھی، لیکن اب اس کا غلط استعمال بڑھ رہا ہے۔ ڈاکٹروں کے نسخے (پریسکرپشن) کے بغیر اسقاطِ حمل اور نشیلی دوائیں آن لائن آسانی سے منگوائی جا رہی ہیں، جو نوجوانوں کے لیے بیحد خطرناک ہے۔
ادھر، شاجاپور میں ضلع صدر وکاس سندل کی قیادت میں وزیراعظم کے نام ایس ڈی ایم منیشا واسکلے کو میمورنڈم سونپ کر آن لائن کمپنیوں کی بھاری چھوٹ (ڈسکاونٹ پالیسی) پر روک لگانے کا مطالبہ کیا گیا۔
میہر ضلع میں بھی دوا فروش سنگھ نے مظاہرہ کر کے کلکٹریٹ پہنچ کر وزیراعظم کے نام ڈپٹی کلکٹر اشمیتا پٹیل کو میمورنڈم سونپا۔ میہر کے امرپاٹن اور رام نگر کو ملا کر قریب 567 میڈیکل اسٹور ہیں، جبکہ میہر شہر میں 80 میڈیکل اسٹور ہیں، جو آج پوری طرح بند رہے۔
دواوں کی دکانیں بند ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ پریشانی ان مریضوں کو ہوئی جو مستقل اور سنگین بیماریوں کی دواوں کے لیے پوری طرح ریٹیل اسٹورز پر منحصر ہیں۔ گوالیار کے دوا بازار میں اپنی 75 سالہ بیوی کے لیے ضروری دوا ڈھونڈ رہے بزرگ ہری اوم کشیپ نے اپنا درد بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ کافی دیر سے بھٹک رہے ہیں، لیکن سب بند ہے۔ اگر وقت پر دوا نہیں ملی تو ان کی بیوی کی طبیعت کافی بگڑ سکتی ہے۔
گوالیار میڈیکل ایسوسی ایشن کے سکریٹری مہیندر گپتا نے بتایا کہ ضلع کے تمام 2200 تھوک اور پرچون اسٹور بند ہیں۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر آن لائن فروخت پوری طرح بند نہیں کی گئی، تو آنے والے دنوں میں اس سے بھی بڑی تحریک چلائی جائے گی۔
گنا ضلع میں ای-فارمیسی کی مخالفت میں میڈیکل مالکان نے سگن چوراہا اور بھگت سنگھ چوراہا سے کلکٹریٹ تک ایک بڑی بائیک ریلی نکالی۔ وہیں پاندھرنا ضلع میں بند کا وسیع اثر دیکھا گیا، جہاں قریب 150 دکانیں بند رہنے سے مریضوں کو بھٹکنا پڑا اور نجی اسٹورز بند ہونے کی وجہ سے سرکاری اسپتالوں میں اچانک مریضوں کا بھاری ہجوم امڈ پڑا۔ ضلع میڈیکل سنگھ کے صدر منوج کھروڈے نے کہا کہ آن لائن دوائیں مریضوں کی صحت کے ساتھ بڑا کھلواڑ ہیں۔
ہڑتال کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ اور ایسوسی ایشن کی جانب سے ضلع سطح پر خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے۔ ہنگامی حالات کے لیے کچھ ہیلپ لائن نمبر جاری کیے گئے ہیں، جن پر کال کرنے پر ضرورت مند مریضوں تک دوائیں پہنچانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسپتالوں کے اندر واقع میڈیکل اسٹورز پر لگاتار دواوں کی دستیابی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن