
روم، 20 مئی (ہ س)۔ غزہ کے لیے امدادی مشن لیکرجارہے فلوٹیلاکارکنوں کے ساتھ اسرائیل کے مبینہ سلوک پر اٹلی اور اسرائیل کے درمیان ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ اطالوی وزیر اعظم اور وزارت خارجہ نے واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مظاہرین کے ساتھ ایسا سلوک ناقابل قبول ہے۔ اٹلی نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اس معاملے پر اسرائیلی سفیر کو طلب کر سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد یہ تنازعہ شروع ہوا جس میں کچھ گرفتار کارکنوں کو گھٹنے ٹیکتے ہوئے دکھایا گیا ہے، ان کے ہاتھ کمر کے پیچھے بندھے ہوئے ہیں۔ یہ ویڈیو مبینہ طور پر ایک اسرائیلی وزیر کی جانب سے شیئر کی گئی تھی، جس سے بین الاقوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔
اطالوی حکومت نے کہا کہ گرفتار کیے جانے والوں میں کئی اطالوی شہری بھی شامل ہیں۔ اس معاملے کو انسانی وقار کا معاملہ قرار دیتے ہوئے، حکومت نے اپنے شہریوں کی فوری رہائی کو یقینی بنانے کے لیے اعلیٰ سطح پر اقدامات کرنے کا وعدہ کیا۔ اس نے پورے معاملے پر اسرائیل کی جانب سے وضاحت اور باضابطہ ردعمل کا بھی مطالبہ کیا۔
اطلاعات کے مطابق امدادی آپریشن سمندری راستے سے غزہ تک امدادی سامان پہنچانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ آپریشن میں شامل بحری جہاز گزشتہ ہفتے ترکی سے روانہ ہوئے تھے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ بحری جہاز کو بحیرہ روم میں روکا گیا اور اس میں سوار سینکڑوں افراد کو حراست میں لے کر اسرائیل لایا گیا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی