اسرائیل نے غزہ کی طرف جانے والے’استحکام بحری بیڑے‘کے 430 کارکنوں کو واپس کردیا
تل ابیب،20مئی (ہ س)۔اسرائیلی حکام نے منگل اور بدھ کی درمیانی رات اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی کی طرف جانے والے امدادی بحری بیڑے پر سوار 430 کارکنان اسرائیل لائے جا رہے ہیں۔ اس سے ایک روز قبل ان کے بحری جہازوں کو قبرص کے ساحلوں کے قریب سمندر میں روک د
اسرائیل نے غزہ کی طرف جانے والے’استحکام بحری بیڑے‘کے 430 کارکنوں کو واپس کردیا


تل ابیب،20مئی (ہ س)۔اسرائیلی حکام نے منگل اور بدھ کی درمیانی رات اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی کی طرف جانے والے امدادی بحری بیڑے پر سوار 430 کارکنان اسرائیل لائے جا رہے ہیں۔ اس سے ایک روز قبل ان کے بحری جہازوں کو قبرص کے ساحلوں کے قریب سمندر میں روک دیا گیا تھا۔اسرائیلی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ تعلقات عامہ کا ایک اور بحری بیڑا اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ تمام 430 کارکنوں کو اسرائیلی بحری جہازوں میں منتقل کر دیا گیا ہے اور وہ اسرائیل کے راستے پر ہیں جہاں وہ اپنے قونصلر نمائندوں سے ملاقات کر سکیں گے۔

دوسری طرف عالمی استحکام بحری بیڑے نے پیر کی صبح اعلان کیا تھا کہ اسرائیلی افواج ان کی تقریباً پچاس کشتیوں پر سوار ہو رہی ہیں۔بعد میں ایکس پلیٹ فارم پر ان کی ایک پوسٹ میں کہا گیا کہ اسرائیلی افواج نے ایک بار پھر غیر قانونی اور پ±ر تشدد طریقے سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جانے والی کشتیوں کے ہمارے بین الاقوامی بحری بیڑے کو روکا اور ہمارے رضاکاروں کو اغوا کر لیا، ساتھ ہی انہوں نے کارکنوں کی فوری رہائی اور غزہ کی پٹی پر عائد محاصرے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

اکتوبر 2023 میں اسرائیل اور حماس تنظیم کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے شدید غذائی قلت، پانی، ادویات اور ایندھن کی کمی کا شکار غزہ کی پٹی پر عائد اسرائیلی محاصرے کو توڑنے کے لیے عالمی استحکام بحری بیڑے کی یہ ایک سال کے دوران تیسری کوشش ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے پیر کے روز کشتیوں کو روکنے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ایک معاندانہ منصوبے کو ناکام بنانا قرار دیا۔نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، جس کے ساتھ گفتگو کا ایک اقتباس بھی منسلک تھا، انہوں نے اس کارروائی کی نگرانی کرنے والے اسرائیلی بحریہ کے کمانڈر سے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ آپ لوگ غیر معمولی کام کر رہے ہیں... اسے آخر تک جاری رکھیں۔اس سے قبل پیر کے روز ہی وزارت خارجہ نے دھمکی دی تھی کہ اسرائیل غزہ کی پٹی پر عائد قانونی بحری محاصرے کی کسی بھی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande