
روم، 20 مئی (ہ س)۔ وزیرِاعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز بھارت اور اٹلی کے تعلقات کو ’’خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری‘‘ کی سطح تک بلند کرنے کا اعلان کیا۔ اٹلی کی وزیرِاعظم جارجیا میلونی کے ساتھ مشترکہ پریس بیان میں وزیرِاعظم مودی نے کہا کہ گزشتہ تقریباً ساڑھے تین برسوں میں انہیں وزیرِاعظم میلونی سے کئی بار ملاقات کا موقع ملا، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے قریبی تعاون اور بہتر ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِاعظم جارجیا میلونی کی قیادت میں بھارت اور اٹلی کے تعلقات کو نئی رفتار، نئی سمت اور نیا اعتماد ملا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت-اٹلی مشترکہ اسٹریٹجک ایکشن پلان 29-2025 دونوں ممالک کی شراکت داری کو عملی اور مستقبل پر مبنی فریم ورک فراہم کرتا ہے اور اس پر مقررہ وقت کے مطابق تیزی سے کام کیا جا رہا ہے۔
وزیرِاعظم مودی نے کہا کہ اٹلی دنیا بھر میں ڈیزائن اور پریسیژن کے لیے مشہور ہے، جبکہ بھارت بڑے پیمانے، صلاحیت اور کم لاگت اختراع کی طاقت کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تجارت کو 20 ارب یورو تک پہنچانے کی سمت میں تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے۔ بھارت میں کام کرنے والی 800 سے زائد اطالوی کمپنیاں بھارت کی ترقی کے سفر میں فعال شراکت داری نبھا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج منعقدہ بزنس فورم سے یہ واضح ہوا ہے کہ دونوں ممالک کی صنعتی دنیا میں نیا جوش، نیا اعتماد اور نئی بلند حوصلگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں قریبی تعاون دونوں ممالک کے درمیان گہرے باہمی اعتماد کی علامت ہے۔ یہ تعاون صرف افواج تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی صنعتی روڈ میپ نے مشترکہ ترقی اور مشترکہ پیداوار کی سمت میں نئی راہیں ہموار کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بحری طاقتوں کے طور پر بھارت اور اٹلی کے درمیان رابطہ کاری کے شعبے میں تعاون فطری ہے۔ دونوں ممالک مل کر شپنگ، بندرگاہوں کی جدید کاری، لاجسٹکس اور بلیو اکانومی کے شعبوں میں کام کریں گے۔
وزیرِاعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور اٹلی اس بات پر متفق ہیں کہ دہشت گردی انسانیت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف دونوں ممالک کی مشترکہ پہل نے دنیا کے سامنے ایک اہم مثال پیش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ذمہ دار جمہوریتیں صرف دہشت گردی کی مذمت ہی نہیں کرتیں بلکہ اس کے مالیاتی نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے ٹھوس اقدامات بھی کرتی ہیں۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ یوکرین، مغربی ایشیا اور دیگر عالمی کشیدگیوں کے حوالے سے بھارت اور اٹلی مسلسل رابطے میں رہے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر دہرایا کہ بھارت کا واضح مؤقف ہے کہ تمام تنازعات اور اختلافات کا حل صرف بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد