ہندوستان-اٹلی کے مشترکہ بیان میں دہشت گردی کی مذمت، یوکرین اور مغربی ایشیا کے حالات پر تشویش کا اظہار
نئی دہلی، 20 مئی (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کے درمیان بات چیت کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں دہشت گردی اور اس کی تمام شکلوں اور مظاہر بشمول سرحد پار دہشت گردی اورانتہا پسندی کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ بیان م
اٹلی


نئی دہلی، 20 مئی (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کے درمیان بات چیت کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں دہشت گردی اور اس کی تمام شکلوں اور مظاہر بشمول سرحد پار دہشت گردی اورانتہا پسندی کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ بیان میں اپریل 2025 کے پہلگام دہشت گردانہ حملے کی بھی سخت مذمت کی گئی اور دہشت گردی کے نیٹ ورکس توڑنے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کا مقابلہ کرنے کے لیے کام جاری رکھنے پر زور دیا۔ دونوں رہنماوں نے اقوام متحدہ، ایف اے ٹی ایف اور دیگر کثیرالجہتی فورمز میں مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

دونوں رہنماوں نے اقوام متحدہ میں اصلاحات کی فوری ضرورت پر زور دیا تاکہ اسے زیادہ نمائندہ اور وقت کی حقیقتوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔ انہوں نے تجارت، اہم ٹیکنالوجیز اور اقتصادی سلامتی میں تعاون کے لیے ایک کلیدی پلیٹ فارم کے طور پر انڈیا-یورپی یونین ٹریڈ اینڈ ٹیکنالوجی کونسل کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی حمایت کی بھی تصدیق کی۔

دونوں رہنماوں نے مغربی ایشیا کی صورتحال اور خطے اور دنیا پر اس کے اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے 8 اپریل کو اعلان کردہ جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اور پائیدار امن کے لیے کشیدگی میں کمی، بات چیت اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے نیویگیشن کی آزادی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی ٹریفک کی بحالی پر بھی زور دیا۔

دونوں رہنماﺅں نے یوکرین میں جاری جنگ پر تشویش کا اظہار کیا جو کہ بے پناہ انسانی مصائب اور منفی عالمی نتائج کا باعث بن رہی ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے یوکرین میں ایک جامع، منصفانہ اور دیرپا امن کے حصول کے لیے کوششوں کی حمایت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

دونوں رہنماوں نے بین الاقوامی قانون کے مطابق آزاد، کھلے، پرامن اور خوشحال ہند-بحرالکاہل خطے کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا، جس میں سمندر پر اقوام متحدہ کی مفاہمت کی یادداشت بھی شامل ہے۔ انہوں نے انڈو پیسیفک اوشین انیشیٹو کے سائنس اور ٹیکنالوجی اور اکیڈمک کوآپریشن میں شراکت داری جاری رکھنے کی امید ظاہر کی۔

افریقہ کو دی گئی تزویراتی ترجیح کو تسلیم کرتے ہوئے، دونوں ممالک نے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (ڈی پی آئی)، زراعت، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، مصنوعی ذہانت، کنیکٹیویٹی اور انفراسٹرکچر اور قابل تجدید توانائی جیسے شعبوں میں افریقی شراکت داروں کے ساتھ سہ فریقی اقدامات میں مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔

انہوں نے 'آئی سی آئی-اٹلی کالس انڈیا : اے یونیورسٹی انٹرپرائز ٹیلنٹ برج ' کے آغاز کا خیرمقدم کیا، جس کا مقصد اطالوی اداروں میں رہنمائی، میچنگ اور اہل انضمام کے لیے ٹھوس راستے فراہم کرکے اطالوی یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے والے ہندوستانی طلباءکی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے۔

دونوں وزرائے اعظم نے اسٹاک ایکسچینج، سرمایہ کاری فنڈز، وینچر کیپیٹل، بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کے درمیان بات چیت اور تعاون کی حوصلہ افزائی پر اتفاق کیا۔ انہوں نے سپلائی چین کے گہرے انضمام کو فروغ دینے کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں سمیت صنعتی شراکت میں سہولت فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے آنے والے مہینوں میں باہمی دلچسپی کے ترجیحی شعبوں میں نئے علاقائی مشنوں کی حوصلہ افزائی کی۔

انہوں نے اینووٹ انڈیا کے قیام کا اعلان کیا، جو کہ ہندوستان میں واقع ایک اختراعی مرکز ہے، جس کا مقصد متعلقہ اختراعی ماحولیاتی نظاموں کے درمیان تعاون کو مضبوط کرنا، اسٹارٹ اپ ایکسلریشن پروگراموں کو سپورٹ کرنا، مارکیٹ تک رسائی اور کاروبار کی مماثلت، مشترکہ تحقیق، یونیورسٹی کے تعاون اور فنٹیک، ہیلتھ کیئر، سیمی کنڈکٹرز، توانائی کی فراہمی،کوانٹم کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت سمیت دیگرشعبوں میں ہنر کی نقل و حرکت میں تعاون جاری رکھناہے ۔

دونوں رہنماﺅں نے اسپیس ایکسپلوریشن ، سولر فزکس اور خلائی تحقیق پر شراکت داری کو مضبوط بنانے، موضوعی طور پر توجہ مرکوز کرنے اور خلا تک رسائی اور خلائی انفراسٹرکچر کے تحفظ پر تعاون کے امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande