ہائی کورٹ نے کیجریوال، سسودیا اور پاٹھک کو الیکشن لڑنے سے نااہل قرار دینے کی عرضی خارج کردی
نئی دہلی، 20 مئی (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے عام آدمی پارٹی اور اس کے رہنماوں اروند کیجریوال، منیش سسودیا اور درگیش پاٹھک کو الیکشن لڑنے سے نااہل قرار دینے کی درخواست کو خارج کر دیا ہے۔ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کی سربراہی والی بنچ نے عرضی کو خارج کرتے
الیکشن


نئی دہلی، 20 مئی (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے عام آدمی پارٹی اور اس کے رہنماوں اروند کیجریوال، منیش سسودیا اور درگیش پاٹھک کو الیکشن لڑنے سے نااہل قرار دینے کی درخواست کو خارج کر دیا ہے۔ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کی سربراہی والی بنچ نے عرضی کو خارج کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا۔

ستیش کمار اگروال کی طرف سے دائر درخواست میں عام آدمی پارٹی کے لیڈروں اروند کیجریوال، منیش سسودیا اور درگیش پاٹھک کو الیکشن لڑنے سے نااہل قرار دینے کی مانگ کی گئی تھی۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ تینوں لیڈروں نے دہلی ایکسائز کیس میں ٹرائل کورٹ کی ضمانت کو چیلنج کرنے والی سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) کی درخواست پر ہائی کورٹ میں جسٹس سورن کانتا شرما کی سربراہی والی بنچ کے سامنے سماعت میں حصہ لینے سے انکار کرکے جسٹس شرما کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے پوچھا کہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ ہم الیکشن کمیشن کو ہدایت دیں کہ وہ عام آدمی پارٹی کی بطور سیاسی جماعت کی پہچان منسوخ کر دے۔ کیا کسی سیاسی جماعت کی شناخت منسوخ کرنے کی کوئی شق ہے؟ تب درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ عوامی نمائندگی ایکٹ میں ایسی کوئی شق نہیں ہے، لیکن سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کی شناخت تین غیر معمولی حالات میں منسوخ کی جا سکتی ہے۔ تب عدالت نے کہا کہ یہ مقدمہ پہلی دو صورتوں میں نہیں آتا۔ تیسری صورت حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب یو اے پی اے کے تحت کسی سیاسی پارٹی کو غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے۔ تیسری صورت میں سیاسی جماعت کی پہچان منسوخ کی جا سکتی ہے۔ کیا عام آدمی پارٹی تیسری حالت میں آتی ہے؟ تب درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ نہیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ وہ جسٹس سورن کانتا شرما کے فیصلے پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد عدالت نے ان سے کہا کہ وہ پہلے اس بات کا تعین کریں کہ کیا الیکشن کمیشن عدالتی حکم کی بنیاد پر پارٹی کی شناخت منسوخ کر سکتا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے پھر کہا کہ اگر ان کا ہندوستانی آئین پر اعتماد نہیں ہے تو وہ الیکشن نہیں لڑ سکتے۔ درخواست گزار نے کہا کہ کیجریوال، منیش سسودیا اور درگیش پاٹھک نے عدلیہ کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ عدالت نے پھر کہا کہ اگر کوئی عدلیہ کو بدنام کرنے کی کوشش کرتا ہے تو توہین عدالت کے خلاف قانون موجود ہے۔ اگر کوئی توہین عدالت کا مرتکب بھی ثابت ہو جائے تو کیا اسے الیکشن لڑنے کے لیے نااہل قرار دیا جا سکتا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے پھر کہا کہ اگر کوئی آئین مخالف سرگرمیوں میں ملوث پایا جاتا ہے تو اس سے نمٹا جانا چاہیے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande