
بیجنگ،20 مئی (ہ س)۔چین کے صدر شی جن پنگ نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین کے ساتھ بات چیت کے دوران چین اور روس کے مستحکم تعلقات کی تعریف کی ہے۔چینی میڈیا کے مطابق آج بدھ کے روز شی نے پوتین سے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات انتہائی اہم ہیں اور لڑائی کو روکنا ضروری ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ جنگ کا خاتمہ توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارتی نظام میں پیدا ہونے والے خلل کو کم کرنے میں مدد گار ثابت ہو گا۔شی نے کہا کہ روس اور چین کے درمیان تعلقات کا یہ اعلیٰ معیار باہمی اعتماد اور تزویراتی تعاون کو گہرا کرنے کی صلاحیت کا مرہونِ منت ہے۔چینی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ بگڑتی ہوئی بین الاقوامی صورت حال کے پس منظر میں ماسکو اور بیجنگ کے درمیان اچھی ہمسائیگی ، دوستی اور تعاون کا معاہدہ روز بروز بڑھتی ہوئی اہمیت اختیار کر رہا ہے۔چینی صدر نے اعلان کیا کہ بیجنگ اور ماسکو نے اچھی ہمسائیگی ، دوستی اور تعاون کے معاہدے میں توسیع پر اتفاق کیا ہے۔شی نے بیجنگ میں اپنے ہم منصب روسی صدر کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا کہ بین الاقوامی صورت حال اس وقت بڑی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے اور دنیا کو ایک بار پھر جنگل کے قانون کی طرف لوٹ جانے کے خطرے کا سامنا ہے۔ ان حالات میں عوامی جمہوریہ چین اور روس کے درمیان اچھی ہمسائیگی ، دوستی اور تعاون کے معاہدے کی سائنسی اور حقیقت پسندانہ نوعیت زیادہ واضح ہو کر سامنے آتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چین اور روس کے تعلقات کے قدم بہ قدم اس اعلیٰ سطح تک پہنچنے کی وجہ یہ ہے کہ ہم مسلسل سیاسی باہمی اعتماد اور تزویراتی تعاون کو گہرا کر سکتے ہیں، استقامت کا مظاہرہ کر سکتے ہیں، مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دے سکتے ہیں اور انھیں ایک نئی سطح پر لے جانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔روسی اور چینی میڈیا کی طرف سے نشر کی جانے والی فوٹیج کے مطابق، چینی رہنما نے بیجنگ میں گریٹ ہال آف دی پیپل کے سامنے روسی صدر کا استقبال کیا جہاں دونوں کے درمیان سربراہی ملاقات ہو رہی ہے۔ یہ ملاقات امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چینی دارالحکومت کے دورے کے ایک ہفتے سے بھی کم وقت کے بعد ہو رہی ہے۔فوٹیج کے مطابق شی نے ہال آف دی پیپل کے سامنے ولادی میر پوتین سے مصافحہ کیا اور پھر ایک فوجی بینڈ نے دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے۔ دونوں رہنما ایسی بات چیت کر رہے ہیں جس کا مرکز ٹرمپ کا دورہ اور باہمی دل چسپی کے امور جیسے مشرق وسطیٰ میں جنگ، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی نظام کو درپیش چیلنجز ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan