
نئی دہلی، 20 مئی (ہ س)۔ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو لے کر کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے مرکزی حکومت پر ملک میں مہنگائی روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہنے کا الزام لگایا ہے۔ کھڑگے نے مرکز پر ملک کی معیشت کو گہرے بحران میں دھکیلنے کا الزام لگایا، جبکہ راہل گاندھی نے بحران کے وقت وزیرِاعظم پر بیرونِ ملک دوروں میں مصروف رہنے کا طنز کیا۔
کھڑگے نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ حکومت کے 11 برسوں میں عام عوام پر قرض 11 گنا بڑھ گیا ہے، مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہیں، روپے کی قدر تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور غیر ملکی سرمایہ کار ملک چھوڑ رہے ہیں۔ اس دوران صنعت کاروں کی دولت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جبکہ عام شہری مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
کھڑگے نے کہا کہ گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 2014 میں 414 روپے سے بڑھ کر 2026 میں 915.5 روپے ہو گئی ہے، جبکہ تجارتی سلنڈر کی قیمت 1,241 روپے سے بڑھ کر 3,152 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ سی این جی، دودھ، بریڈ اور ادویات جیسی روزمرہ کی اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور حالیہ ایندھن قیمتوں میں اضافے سے سرکاری تیل کمپنیوں نے صرف چند گھنٹوں میں 12,400 کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی۔ مارچ 2026 میں نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 15.2 فیصد تک پہنچ گئی، جو گزشتہ نو ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ گزشتہ دس برسوں میں 90 امتحانی پرچے لیک ہوئے، جس سے تقریباً 9 کروڑ نوجوانوں کا مستقبل متاثر ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ روپیہ 96.90 کی تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ مغربی ایشیا میں تنازعہ شروع ہونے کے بعد دو مہینوں میں بھارت کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 38 ارب ڈالر کم ہو گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی 2026 میں اب تک 2.2 لاکھ کروڑ روپے کے ایف پی آئی سرمایہ کاری ملک سے باہر جا چکی ہے، جو 2025 کے پورے سال کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ معاشی مشکلات کے باعث تقریباً 80 کروڑ شہری 5 کلو راشن امداد پر منحصر ہو گئے ہیں۔
راہل گاندھی نے بھی ایکس پر وزیرِاعظم پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ “معاشی طوفان سر پر ہے۔ کسان، نوجوان، خواتین، مزدور اور چھوٹے تاجر پریشان ہیں، لیکن وزیرِاعظم بیرونِ ملک ہیں اور بی جے پی رہنما تالیاں بجا رہے ہیں۔”
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد