
انقرہ (ترکی)، 20 مئی (ہ س)۔ ترکی کے مشرقی صوبے مالتیا میں بدھ کوشدید زلزلہ آیا، جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.6 تھی۔ ابھی تک کسی جانی یا بڑے نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ تاہم کئی مقامات پر خوفزدہ لوگوں نے کھڑکیوں اور چھتوں سے چھلانگیں لگا دیں،جس سے کچھ لوگ زخمی ہوگئے۔
ترکی کی ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی کے حکام کے مطابق زلزلے کا مرکز بیٹلغازی ضلع تھا۔ زلزلہ تقریباً سات کلومیٹر (چار میل) کی گہرائی میں آیا۔ اتھارٹی نے یہ بھی کہا کہ زلزلے کے جھٹکے پڑوسی صوبوں آدیامن، ایلازیگ، تونسیلی اور سانلیورفا میں بھی محسوس کیے گئے۔ متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی ٹیمیں روانہ کر دی گئیں۔ مالتیا اور آس پاس کے صوبوں کی ویڈیو فوٹیج میں لوگوں کو عمارتوں سے باہر بھاگتے اور خالی جگہوں اور پارکوں میں جمع ہوتے دکھایا گیا ہے۔
مالتیا کے گورنر سدر یاوز نے سرکاری نشریاتی ادارے اے ہیبر کو بتایا کہ زلزلے کے بعد ہنگامی خدمات کو 22 کالیں موصول ہوئیں اور چھ افراد کو اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ ان میں سے دو نے گھبراہٹ میں اپنے گھروں کی بالائی منزل سے چھلانگ لگا دی۔ چار دیگر افراد کو ذہنی صدمے کا سامنا کرنا پڑا لیکن ان میں سے کسی کی حالت نازک نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ مالتیا کے یزہان ضلع میں مویشیوں کا ایک شیڈ جزوی طور پر گر گیا۔ دوآن شہیر ضلع میں ایک خالی عمارت کو نقصان پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں اسکول ایک دن کے لیے بند کردئے گئے ہیں۔ یاووز نے کہا کہ 2023 کے زلزلے کے بعد تعمیر نو کی کوششوں نے مالتیا کو زلزلہ مزاحم شہر بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا، ہم نے 124,000 زلزلہ مزاحم ہاوسنگ یونٹ بنائے ہیں۔ یہ ایک وجہ ہے کہ آج کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔ غور طلب ہے کہ 6 فروری 2023 کو آنے والے زلزلے نے مالتیا میں بڑی تباہی مچائی تھی، جس میں ہزاروں لوگوں کی جانیںچلی گئی تھیں۔
مزید برآں، ورلڈایکیو لوکیٹر نے ترکی سے تقریباً 19 کلومیٹر شمال سنسکمیں 5.4 شدت کے زلزلے کی اطلاع دی۔ ایجنسی نے کہا کہ بدھ کو زلزلے سے زمین ہل گئی۔ زلزلے نے بہت سے لوگوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔امریکہکے جیولوجیکل سروے نے بھی زلزلے کی تصدیق کی ہے، جو ہندوستانی معیاری وقت کے مطابق صبح ساڑھے 11 بجے آیا۔ زلزلے کے باعث متاثرہ علاقے کے متعدد اسکولوں کو خالی کرا لیا گیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی