
ملک بھر میں سیل براڈکاسٹ الرٹ سسٹم کی کامیاب آزمائش، آفات کے وقت فوراً معلومات پہنچے گی
نئی دہلی، 02 مئی (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے آفات اور ہنگامی حالات میں شہریوں کو فوری معلومات فراہم کرنے کے مقصد سے 'سیل براڈکاسٹ الرٹ سسٹم' شروع کیا ہے، جس میں ہر قسم کے موبائل فون کی اسکرین پر ایک میسج باکس ظاہر ہوتا ہے اور مخصوص بیپ کی آواز کے ساتھ وائبریٹ ہوتا ہے۔ وزیر مواصلات جیوترادتیہ سندھیا کی موجودگی میں شروع کیے گئے اس نظام کی ہفتہ کو پورے ملک میں کامیاب آزمائش کی گئی۔
ٹیسٹ کے ایک حصے کے طور پر، تقریباً 11:45 بجے ملک بھر کے موبائل فون پر بیک وقت بیپ کی آواز کے ساتھ ایک ہنگامی الرٹ پیغام موصول ہوا۔ پیغام میں واضح کیا گیا کہ یہ ایک آزمائش ہے اور عوام کو کسی اقدام کی ضرورت نہیں ہے۔ اس جدید ترین نظام کو محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن، وزارت مواصلات نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے تعاون سے تیار کیا ہے، تاکہ کسی آفت کے دوران شہریوں کو اہم معلومات کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
این ڈی ایم اے نے ٹیلی مواصلات کے محکمے کے تحقیقی اور ترقی کے مرکز سنٹر فار ڈویلپمنٹ آف ٹیلی میٹکس (سی-ڈاٹ) کے ذریعہ تیار کردہ مربوط الرٹنگ سسٹم سچیت کا کامیابی کا آغاز کیا ہے۔ یہ نظام بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے تجویز کردہ کامن الرٹنگ پروٹوکول (سی اے پی) پر مبنی ہے۔ یہ فی الحال ملک کی تمام 36 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کام کر رہا ہے اور جغرافیائی اعتبار سے نشانزد کئے گئے علاقوں میں موبائل صارفین کو ایس ایم ایس کے ذریعے آفات اور ہنگامی الرٹ فراہم کر رہا ہے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، قدرتی آفات، موسم کی وارننگ اور طوفان کے واقعات کے دوران اس سسٹم کے ذریعے اب تک 19 سے زیادہ ہندوستانی زبانوں میں 134 ارب سے زیادہ ایس ایم ایس الرٹس نشر کئے جا چکے ہیں۔
ڈیزاسٹر الرٹ سسٹم کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ایس ایم ایس کے علاوہ سیل براڈکاسٹ (سی بی) ٹیکنالوجی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کسی مخصوص جغرافیائی علاقے کے اندر موجود تمام موبائل ڈیوائسز پر بیک وقت الرٹس نشر کرنے کی اجازت دیتی ہے، جو قریب قریب حقیقی وقت میں معلومات کی ترسیل کو قابل بناتی ہے۔
یہ نظام خاص طور پر حساس حالات جیسے سونامی، زلزلے، آسمانی بجلی گرنے، گیس کے اخراج اور دیگر کیمیائی خطرات میں مفید ثابت ہوگا۔ سی-ڈاٹ کو اس مقامی سیل براڈکاسٹ پر مبنی پبلک ایمرجنسی الرٹ سسٹم کو تیار کرنے اور لاگو کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
لانچ مشق کے ایک حصے کے طور پر، دہلی-این سی آر سمیت تمام ریاستی دارالحکومتوں میں موبائل صارفین کو انگریزی، ہندی اور علاقائی زبانوں میں ایک ٹیسٹ پیغام بھیجا گیا تھا۔ پیغام میں کہا گیا، ہندوستان نے مقامی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اپنے شہریوں کے لیے تیز رفتار آفات سے متعلق وارننگ سروس کے لیے سیل براڈکاسٹ شروع کیا۔ الرٹ سٹیزن، سیف نیشن۔ اس پیغام کی وصولی پر کسی کارروائی کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ایک ٹیسٹ پیغام ہے۔
ٹرائل کے دوران میٹرو، بسوں اور دیگر عوامی مقامات پر بیک وقت الرٹس نے لوگوں میں کچھ دیر کے لیے الجھن اور خوف و ہراس پھیلایا، تاہم پیغام پڑھ کر صورتحال معمول پر آگئی۔ حکومت نے اسے 'الرٹ سٹیزن، سیف نیشن' کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے اور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے ٹیسٹ پیغامات سے گھبرائیں نہیں، کیونکہ ان کا مقصد صرف آفات کے وقت فوری معلوماتی نظام کو جانچنا اور مضبوط کرنا ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی