
مہاراشٹر میں وائرس تشخیصی جدید لیبارٹریوں کا جال قائم کرنے کا فیصلہ
۔ ناگپور اور ممبئی سمیت کئی شہروں میں لیبارٹریاں منظور
ممبئی، 30 اپریل (ہ س)۔ مہاراشٹر میں صحت کے شعبے کی بنیادی سہولیات کو مضبوط بنانے کے مقصد سے ریاست بھر میں وائرس تشخیصی جدید لیباریٹریوں کا جال قائم کرنے کا ایک اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ اقدام وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کی دور اندیشی کے تحت شروع کیا گیا، جس کا مقصد ریاست کو مستقبل کے متعدی امراض سے نمٹنے کے لیے مزید تیار بنانا ہے۔
اس سلسلے میں 13 جولائی 2017 کو اُس وقت کے مرکزی وزیر صحت کو ایک خط لکھ کر ملک بھر میں قائم کی جانے والی 150 جدید وائرس لیبارٹریوں میں مہاراشٹر کو مناسب حصہ دینے کی درخواست کی گئی تھی۔ اس خط میں ناگپور جیسے مرکزی مقام اور ریاستی دارالحکومت ممبئی میں ریاستی سطح کی لیبارٹریاں قائم کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف علاقوں کے دس سرکاری طبی کالجوں میں بھی ایسی سہولیات فراہم کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔
مرکزی حکومت نے اس تجویز کو قبول کرتے ہوئے سرکاری طبی کالج ناگپور میں ریاستی سطح کی وائرس تشخیصی لیبارٹری کو منظوری دی۔ اس کے علاوہ اندرا گاندھی سرکاری طبی کالج ناگپور، اکولا، چھترپتی سمبھاجی نگر، سولاپور، دھولے اور میرج کے طبی اداروں میں بھی جدید لیبارٹریاں قائم کرنے کی اجازت دی گئی۔
اس اسکیم کے لیے مرکزی حکومت کی جانب سے مجموعی طور پر 29 کروڑ 21 لاکھ روپے کا فنڈ فراہم کیا گیا، جس کے ذریعے جدید مشینری خرید کر ان لیبارٹریوں کو فعال بنایا گیا۔ کووڈ-19 وبا کے دوران ان لیبارٹریوں نے آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ کے ذریعے نہایت اہم کردار ادا کیا۔
ان لیبارٹریوں کی بدولت مختلف وائرس سے متعلق بیماریوں کی تشخیص ممکن ہو سکی ہے۔ اب تک کووڈ-19 کے 37,21,154، ڈینگی کے 88,327، چکن گنیا کے 39,817، زیکا کے 3,923، اسکرَب ٹائفَس کے 7,091، انفلوئنزا کے 27,536، ایچ بی وی کے 1,53,180 اور روٹا وائرس کے 651 کیسز سمیت مجموعی طور پر 40,41,689 مریضوں کی جانچ کی جا چکی ہے۔
اس اقدام کے ذریعے مہاراشٹر کی صحتی نظام کو نمایاں طور پر مضبوطی ملی ہے اور مستقبل میں سامنے آنے والے متعدی امراض سے نمٹنے کے لیے ریاست کی تیاری میں اضافہ ہوا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے