
منشیات اسمگلروں کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کیا جائے۔ ایل جی
جموں، 30 اپریل (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں منشیات کے اسمگلروں کے ساتھ قانون کے تحت دہشت گردوں جیسا سلوک کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 20 دنوں کے دوران 100 روزہ ’نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان‘ کے تحت 440 منشیات فروشوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ 350 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔
ڈوڈہ میں انسدادِ منشیات مہم کے آغاز کے بعد ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے منشیات کے استعمال کو خاموش دہشت گردی قرار دیا اور اس ناسور کے خلاف عوامی تحریک چلانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ دہشت گردی سے کم نہیں اور اس میں ملوث افراد کو سخت سزا دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ منشیات نہ صرف نوجوان نسل کو تباہ کرتی ہیں بلکہ خاندانوں کو کمزور اور معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتی ہیں۔
منشیات کی اسمگلنگ کو بھیس بدلی دہشت گردی سے تشبیہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک پوشیدہ خطرہ ہے جسے جڑ سے ختم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ اس زہر کو پھیلانے والے نیٹ ورکس کو ختم کرنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 100 روزہ مہم کے ابھی 80 دن باقی ہیں اور ہر لمحہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے عوام، تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ اس مہم میں بھرپور حصہ لیں تاکہ جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک معاشرہ بنایا جا سکے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ منشیات کے خلاف جنگ صرف سرکاری مشینری کے ذریعے نہیں جیتی جا سکتی بلکہ اس کے لیے اجتماعی کوشش اور ذہنیت میں تبدیلی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات فروش عوامی خاموشی اور لاپرواہی کا فائدہ اٹھاتے ہیں، اس لیے ہر شہری کو اس مہم کا حصہ بننا ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
--------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر