تلنگانہ میں وزراء اور اعلیٰ عہدیداروں کے درمیان اختلافات
حیدرآباد ، 30 اپریل (ہ س) ۔ تلنگانہ میں وزراء اوراعلیٰ عہدیداروں کے درمیان تال میل کی کمی کے نتیجہ میں کئی محکمہ جات کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے ۔ وزراء کی جانب سے عہدیداروں پر بڑھتے دباؤ کے نتیجہ میں اسکیمات پرعمل آوری متاثرہوئی ہے اورمحکمہ جات می
تلنگانہ میں وزراء اور اعلیٰ عہدیداروں کے درمیان اختلافات


حیدرآباد ، 30 اپریل (ہ س) ۔

تلنگانہ میں وزراء اوراعلیٰ عہدیداروں کے درمیان تال میل کی کمی کے نتیجہ میں کئی محکمہ جات کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے ۔ وزراء کی جانب سے عہدیداروں پر بڑھتے دباؤ کے نتیجہ میں اسکیمات پرعمل آوری متاثرہوئی ہے اورمحکمہ جات میں تعطل کا معاملہ وزیراعلی ریونت ریڈی تک پہنچ چکا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی محکمہ جات ایسے ہیں جہاں پرنسپل سکریٹریزاورسکریٹریزنے خدمات انجام دینے سے انکارکردیا ہے کیونکہ متعلقہ وزراء کی جانب سے ان پرفیصلوں کے سلسلہ میں دباؤبنایا جارہا ہے۔حال ہی میں ایکسائزپالیسی کے مسئلہ پرریاستی وزیر جوپلی کرشناراؤسے اختلاف کے نتیجہ میں سینئرآئی اے ایس عہدیدارسیدعلی مرتضیٰ رضوی نے رضاکارانہ سبکدوشی اختیارکرلی حالانکہ ان کی سروس کے مزید10 سال باقی تھے۔ سیدعلی مرتضیٰ رضوی اپنی سرویس کے اعتبارسے چیف سکریٹری رینک تک پہنچ سکتے تھے لیکن ریاستی وزیرجوپلی کرشناراؤنے انہیں بعض ایسے فیصلے کرنے کیلئے دباؤ بنایاجوقواعد کےاعتبار سے ممکن نہیں تھا۔ ریاستی وزیراورسینئرعہدیدارکے درمیان اختلافات کامعاملہ وزیراعلی دفترتک پہنچا،باوجوداس کے یکسوئی نہیں ہوپائی۔ آخرکارسیدعلی مرتضیٰ رضوی نے رضاکارانہ سبکدوشی اختیارکرتے ہوئے سرکاری خدمت کوخیرباد کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی محکمہ میں یہی صورتحال ہے جس کے نتیجہ میں وزراء اورعہدیداروں میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ان دنوں محکمہ انڈومنٹ کے تنازعات اخبارات اورسوشیل میڈیا میں تیزی سے وائرل ہورہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیرانڈومنٹ کونڈا سریکھااورمحکمہ کے سینئرعہدیداروں میں کئی امورپراختلافات پیداہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کونڈا سریکھا گزشتہ ایک ماہ سے محکمہ کی سرگرمیوں سے دورہیں ۔انہوں نے محکمہ کاکوئی بھی جائزہ اجلاس منعقدنہیں کیا۔وزیراعلی ریونت ریڈی کے حال ہی میں کالیشورم مندرکے دورہ اورمیڈی گڈا میں جلسہ عام کے موقع پربھی کونڈاسریکھاغیرحاضررہیں۔ ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande