
دھولیہ، 29 اپریل (ہ س) مہاراشٹر کے ضلع دھولیہ اور اس کے اطراف میں شدید گرمی کی لہر نے زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے، جہاں درجہ حرارت بڑھ کر 45.1 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا ہے۔ اس شدید گرمی کا اثر نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں اور پرندوں پر بھی واضح طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دھولیہ تعلقہ کے آرنی گاؤں میں گرمی کے باعث ایک بڑا نقصان سامنے آیا ہے، جہاں ایک کسان کے پولٹری فارم میں تقریباً 200 مرغیاں ہلاک ہو گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق شدید گرمی کی وجہ سے مرغیاں بے حال ہو کر مر گئیں۔
موجودہ صورتحال یہ ہے کہ پنکھے اور کولر جیسے آلات بھی اس شدید گرمی کے سامنے بے اثر ثابت ہو رہے ہیں۔ دوپہر کے وقت سورج کی تپش اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ سڑکیں سنسان دکھائی دیتی ہیں۔
گرمی کی اس لہر نے پولٹری کاروبار کو بھی شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث کسانوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ماہرین موسمیات کے مطابق اگر درجہ حرارت میں اسی طرح اضافہ جاری رہا تو آئندہ دنوں میں مزید نقصان کا امکان موجود ہے۔
ریاست کے دیگر علاقوں کی طرح دھولے ضلع میں بھی بڑھتی ہوئی گرمی نے انسانی زندگی کے ساتھ ساتھ جانوروں اور پرندوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے