راجہ مہندر پرتاب سنگھ کی برسی اے ایم یو بھولا، شہر میں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا
راجہ مہندر پرتاب سنگھ کی برسی اے ایم یو بھولا، شہر میں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا علی گڑھ، 29 اپریل (ہ س)۔ عظیم مجاہدِ آزادی، انقلابی، صحافی اور ماہرِ تعلیم راجہ مہندر پرتاپ سنگھ کی 47ویں برسی کے موقع پر علی گڑھ میں ایک چونکا دینے والی تصویر سامنے آئ
راجہ مہیندر پرتاب سنگھ


راجہ مہندر پرتاب سنگھ کی برسی اے ایم یو بھولا، شہر میں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا

علی گڑھ، 29 اپریل (ہ س)۔ عظیم مجاہدِ آزادی، انقلابی، صحافی اور ماہرِ تعلیم راجہ مہندر پرتاپ سنگھ کی 47ویں برسی کے موقع پر علی گڑھ میں ایک چونکا دینے والی تصویر سامنے آئی۔ ایک طرف جہاں عام لوگوں اور مقامی عوامی نمائندوں نے آگے بڑھ کر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا، وہیں وہ ادارے جن سے ان کا تاریخی اور جذباتی تعلق رہا، وہاں خاموشی چھائی رہی۔

راجہ مہندر پرتاپ سنگھ نہ صرف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے طالب علم رہے بلکہ انہوں نے یونیورسٹی کے لیے اپنی قیمتی زمین بھی عطیہ کی تھی۔ یہی نہیں، ان کی دی ہوئی زمین پر ہی آج راجہ مہندر پرتاپ سنگھ سٹی ہائی اسکول قائم ہے۔ ایسی عظیم شخصیت کی برسی جیسے اہم دن پر اے ایم یو اور سٹی ہائی اسکول، دونوں جگہ کسی بھی طرح کا کوئی سرکاری پروگرام، تعزیتی اجلاس یا یادگاری تقریب منعقد نہیں کی گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ادارے اپنے ہی تاریخی ورثے کو فراموش کر رہے ہیں؟

جب اس معاملے پر سٹی ہائی اسکول کے پرنسپل ڈاکٹر فیاض الدین سے بات کی گئی تو انہوں نے صاف کہا کہ “آج کوئی پروگرام نہیں ہوا۔” اور جب انہیں بتایا گیا کہ آج راجہ مہندر پرتاپ سنگھ کی برسی ہے تو ان کا جواب مزید حیران کن تھا—“مجھے اس کی معلومات نہیں تھی۔” یہی نہیں، انہوں نے یہ بھی کہا—“ویسے بھی پروگرام یومِ پیدائش پر کیے جاتے ہیں، برسی پر نہیں۔” یہ بیان کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے کہ کیا ایک تعلیمی ادارے کے سربراہ کو اپنے ہی ادارے کے نام پر قائم شخصیت کی برسی کا علم نہیں اور کیا عظیم مجاہدینِ آزادی کی برسی کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی؟

اسی دن تصویر محل واقع راجہ مہندر پرتاپ سنگھ پارک میں ایک مختلف منظر دیکھنے کو ملا، جہاں مقامی لوگوں اور عوامی نمائندوں نے ان کے مجسمے پر گل پوشی کی، خراجِ عقیدت پیش کیا اور دو منٹ کی خاموشی اختیار کر کے ان کی خدمات کو یاد کیا۔ اس موقع پر سابق ضلع صدر چودھری ہمویر سنگھ، برج علاقہ صدر (اقلیتی) مسرور احمد، برج علاقہ نائب صدر ونود کرن، یوتھ ریاستی سکریٹری فہیم خان گڈو، کمال اختر، شاہنواز خان، چودھری رنجیت سنگھ، ٹھاکر شیو راج سنگھ، عزیز الرحمن، صابر علی، راج کمار، جاوید زیدی اور روی چودھری سمیت کئی افراد موجود رہے۔ یہ پروگرام عبداللہ شیروانی کی قیادت میں منعقد ہوا، جہاں لوگوں نے کہا کہ تاریخ کو زندہ رکھنا سماج کی ذمہ داری ہے، چاہے ادارے پیچھے کیوں نہ ہٹ جائیں۔

ماہرینِ تعلیم اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک “بھول” نہیں بلکہ ادارہ جاتی بے حسی کی علامت ہے۔ مقامی لوگوں اور سابق طلبہ میں بھی ناراضگی صاف نظر آ رہی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ جب عام لوگ اور چھوٹے پیمانے پر پروگرام منعقد ہو سکتے ہیں تو بڑے اور باوقار ادارے کیوں پیچھے رہ رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

--------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande