مہاراشٹر میں گرین توانائی کے لیے 12 ہزار 303 کروڑ کی بڑی اسکیم
ممبئی ، 29 اپریل (ہ س)۔ مہاراشٹر حکومت نے ریاست میں گرین توانائی کے استعمال کو فروغ دینے، ترسیلی نظام کو مضبوط بنانے اور توانائی ذخیرہ کرنے کی جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم اور جامع منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ دی
مہاراشٹر میں گرین توانائی کے لیے 12 ہزار 303 کروڑ کی بڑی اسکیم


ممبئی ، 29 اپریل (ہ س)۔ مہاراشٹر حکومت نے ریاست میں گرین توانائی کے استعمال کو فروغ دینے، ترسیلی نظام کو مضبوط بنانے اور توانائی ذخیرہ کرنے کی جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم اور جامع منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی صدارت میں ہونے والی کابینہ میٹنگ میں کیا گیا۔اس منصوبے کے تحت “مہاراشٹر گرین توانائی اور ذخیرہ ٹیکنالوجی انضمام اسکیم” کو منظوری دی گئی ہے، جس کا مقصد ریاست میں قابل تجدید توانائی کے استعمال کو بڑے پیمانے پر بڑھانا ہے۔ حکومت نے 2030 تک توانائی کے مجموعی نظام میں قابل تجدید توانائی کا حصہ 17 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔اس اسکیم کے تحت تقریباً 12 ہزار 303 کروڑ روپے لاگت کے منصوبے کو منظوری دی گئی ہے۔ اس میں نئے بجلی سب اسٹیشنز کی تعمیر، ترسیلی لائنوں کی توسیع، موجودہ نظام کو مضبوط بنانے اور جدید بنانے کے ساتھ ساتھ بیٹری توانائی ذخیرہ نظام کے قیام جیسے اہم اقدامات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پن بجلی کے منصوبوں کے لیے تکنیکی معاونت بھی فراہم کی جائے گی۔حکومت نے اس منصوبے کی ابتدائی رپورٹ مرکزی حکومت کے اقتصادی امور کے محکمہ کو بھیجنے کی بھی منظوری دی ہے۔ منصوبے کے لیے درکار کل رقم میں سے تقریباً 70 فیصد یعنی 8 ہزار 616 کروڑ روپے عالمی بینک سے قرض کی صورت میں حاصل کیے جائیں گے، جبکہ باقی 30 فیصد رقم متعلقہ بجلی کمپنیوں کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔ریاستی حکومت مہاوترن کمپنی کے لیے 2026 سے 2031 کے درمیان مرحلہ وار 1 ہزار 377 کروڑ روپے بطور سرمایہ فراہم کرے گی۔ اس منصوبے کے نفاذ سے بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب کو زیادہ تر قابل تجدید ذرائع سے پورا کرنے پر زور دیا جائے گا۔اس اسکیم کے تحت 40 نئے سب اسٹیشن قائم کیے جائیں گے، ترسیلی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا اور جدید کنڈکٹرز نصب کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ 16 ہزار میگاواٹ گھنٹہ صلاحیت کا بیٹری توانائی ذخیرہ نظام بھی قائم کیا جائے گا۔ مزید برآں کوینا، پانشیٹ اور ورسگاؤں جیسے مقامات پر پن بجلی منصوبوں کے لیے تکنیکی مطالعہ کیا جائے گا۔یہ منصوبہ 2026 سے 2031 کے دوران نافذ کیا جائے گا اور اس کی مؤثر نگرانی کے لیے توانائی محکمہ میں خصوصی سیل قائم کیا جائے گا۔ حکومت کے مطابق یہ فیصلہ ریاست کی توانائی پالیسی کو مضبوط بنانے اور طویل مدتی توانائی تحفظ کو یقینی بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande