
۔ پوری ریاست سے آئے ہزاروں اساتذہ نے حکومت پر وعدہ خلافی کا الزام عائد کیا
بھوپال، 29 اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں بدھ کے روز مہمان اساتذہ (گیسٹ ٹیچر) نے بڑا احتجاج کیا۔ مہمان اساتذہ مشترکہ محاذ کے بینر تلے پوری ریاست سے آئے ہزاروں اساتذہ نے حکومت پر وعدہ خلافی کا الزام عائد کرتے ہوئے اپنے زیرِ التوا مطالبات کے حق میں زوردار احتجاج درج کرایا۔ احتجاج کے دوران اساتذہ نے وارننگ دی کہ اگر ان کے مطالبات پر جلد فیصلہ نہ لیا گیا، تو تحریک کو مزید وسیع اور شدید کیا جائے گا۔ احتجاج میں کئی خواتین اساتذہ بھی شامل ہوئیں۔
امبیڈکر پارک میں منعقدہ احتجاج کے دوران محاذ کے صوبائی صدر سنیل سنگھ پریہار نے کہا کہ اسمبلی انتخابات سے پہلے حکومت نے مہمان اساتذہ کے لیے کئی اہم اعلانات کیے تھے۔ ان میں مستقل کرنا (ریگولرائزیشن)، براہِ راست بھرتی میں بونس نمبر اور سالانہ معاہدہ نافذ کرنے جیسے وعدے شامل تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اب تک ان وعدوں پر کوئی ٹھوس عمل درآمد نہیں ہوا ہے، جس سے اساتذہ میں ناراضگی بڑھتی جا رہی ہے۔ پرہار نے کہا کہ مرکزی وزیر جیوتی رادتیہ سندھیا اور سابق وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے بھی مہمان اساتذہ کو انصاف دلانے کا بھروسہ دیا تھا، لیکن اب تک کوئی ٹھوس فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ اس سے اساتذہ کے درمیان اعتماد کا بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
تنظیم کے عہدیداروں رام چندر ناگر اور کے سی پوار نے حکومت پر سالانہ معاہدے کے وعدے سے پیچھے ہٹنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر 30 اپریل تک حل نہیں نکلا، تو تقریباً سوا لاکھ مہمان اساتذہ کو بے روزگاری کے خطرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ساتھ ہی مطالبہ کیا گیا کہ تجربہ کار اساتذہ کو خالی اسامیوں پر ترجیحی بنیادوں پر ایڈجسٹ کیا جائے۔
صوبائی سکریٹری رویکانت گپتا نے ای-اٹینڈنس سسٹم میں آنے والی تکنیکی دشواریوں پر ناراضگی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ کئی بار تکنیکی وجوہات کی بنا پر حاضری درج نہیں ہو پاتی، جس سے مشاہرہ کٹ جاتا ہے۔ کچھ معاملات میں تو ستمبر کے مہینے کی ادائیگی بھی زیرِ التوا ہے، جسے فوری طور پر جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
بی ایم خان نے بھرتی کے عمل کی خامیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ 2008 سے کام کرنے والے مہمان اساتذہ کو ان کے تجربے کا پورا فائدہ نہیں مل رہا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اسکور کارڈ میں ہر سال 10 نمبر (زیادہ سے زیادہ 100) جوڑے جائیں اور پرانے اہلیتی امتحانات کے نمبر بھی شامل کیے جائیں، تاکہ تجربہ کار اساتذہ کو انصاف مل سکے۔ وہیں، صوبائی صدر طوفان شرما نے کہا کہ مہمان اساتذہ تمام ضروری اہلیتیں پوری کرتے ہیں، اس لیے ان کے تجربے کی بنیاد پر انہیں ترجیح ملنی چاہیے۔
اساتذہ نے اس دوران کئی اہم مطالبات کئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مستقل کرنے کے لیے خصوصی امتحان اور 30 فیصد نشستیں ریزرو کی جائیں۔ بھرتی میں 50 فیصد نشستیں مہمان اساتذہ کے لیے طے ہوں اور بونس نمبر دیے جائیں۔ اسکور کارڈ میں تجربے کے پورے نمبر جوڑے جائیں۔ 12 ماہ کا سالانہ معاہدہ لاگو ہو۔ انشورنس، پی ایف اور صحت کی سہولیات دی جائیں۔ ای-اٹینڈنس میں اصلاح اور زیرِ التوا ادائیگی جاری کی جائے۔ تکنیکی مسئلہ ہونے پر آف لائن حاضری قبول کی جائے۔
صوبائی صدر سنیل سنگھ پرہار نے کہا کہ مہمان اساتذہ کے حوالے سے پہلے کئی بڑے وعدے کیے گئے تھے، جن پر اب تک عمل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے جلد کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا، تو تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا۔ اس سے ریاست بھر میں بڑے پیمانے پر اثرات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن