
منڈلا، 29 اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے کانہا ٹائیگر ریزرو میں 21 سے 26 اپریل کے درمیان تین بچوں کی موت کے بعد ان کی ماں شیرنی (ٹی-141) کی بدھ کو موت ہو گئی۔ 21 سے 29 اپریل کے درمیان محض 9 دنوں میں ہونے والی ان چار اموات نے ٹائیگر ریزرو کے انتظام اور نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچوں کے پیٹ خالی ملنے سے بھوک کو وجہ مانا گیا تھا، لیکن بعد میں محکمہ جنگلات نے پھیپھڑوں کے انفیکشن کو موت کی وجہ بتایا۔ وجوہات میں اس تبدیلی نے پورے معاملے کو مزید مشکوک بنا دیا ہے۔
اشارے ملے، لیکن حالات نہیں سنبھلے
17 اپریل: سرہی زون سے ایک کمزور بچے کی ویڈیو سامنے آئی۔ محکمہ جنگلات نے نگرانی بڑھانے اور شیرنی کی تلاش کا دعویٰ کیا۔
21 اپریل: بڑے اماہی نالے کے پاس پہلے بچے کی لاش ملی۔پیٹ خالی ہونے سے بھوک کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔
24 اپریل: اینٹاوارے نالے میں دوسرے بچے کی سڑی گلی لاش ملی۔
26-25 اپریل: اس دوران تیسرے بچے کی بھی موت ہو گئی۔ اس بار محکمے نے پھیپھڑوں کے انفیکشن کو وجہ بتایا۔
29 اپریل: ریسکیو کر کے مکی کوارنٹائن سینٹر لائی گئی شیرنی ٹی-141 نے بھی علاج کے دوران دم توڑ دیا۔
بھوک یا بیماری؟ وجہ اب بھی واضح نہیں
معاملے میں سب سے بڑا تنازعہ موت کی وجہ کو لے کر ہے۔ پہلے دو بچوں کے پیٹ خالی ملے، جس سے بھوک کی بات سامنے آئی۔ بعد میں حکام نے کہا کہ اوپری تنفس کے نظام کے انفیکشن کی وجہ سے بچے کھانا نہیں کھا پا رہے تھے۔ محکمہ جنگلات کا کہنا ہے کہ ریسکیو کے بعد علاج ملنے پر شیرنی اور بچے نے 24 گھنٹے کے اندر کھانا شروع کیا، جس سے بیماری کی تصدیق ہوتی ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ 17 اپریل کو کمزوری کے اشارے ملنے کے باوجود بیماری کی شناخت وقت رہتے کیوں نہیں ہو سکی۔
ملک کے اہم محفوظ علاقوں میں شمار کیے جانے والے کانہا ٹائیگر ریزرو میں پروجیکٹ ٹائیگر کے تحت ہر سال تقریباً 40 کروڑ روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود اتنے کم وقت میں تین بچوں اور شیرنی کی موت ہونا نگرانی اور انتظامی نظام کی تاثیر پر سوال کھڑے کرتا ہے۔
مقامی گاوں والوں اور عوامی نمائندوں نے محکمہ جنگلات پر لاپرواہی کے الزامات لگائے ہیں۔ کٹنگا مال کی سرپنچ پاروتی اوئیکے نے کہا کہ شکایتوں کے باوجود کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔ مقامی رہائشی دیوی پرساد یادو کے مطابق، گشت اور نگرانی موثر نہیں ہے، جس سے نہ صرف جنگلی حیات کا تحفظ بلکہ سیاحت اور مقامی روزگار پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔ سماجی کارکنوں نے بھی اسے انتظامیہ کی ناکامی قرار دیتے ہوئے ذمہ داری طے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن