حیدرآباد میٹرو ریل پریکم مئی سے حکومت کی راست نگرانی
حیدرآباد میٹرو ریل پریکم مئی سے حکومت کی راست نگرانیحیدرآباد، 29 اپریل (ہ س)۔ حیدرآباد میٹروریل فیزI خدمات یکم مئی سے تلنگانہ حکومت کی راست نگرانی میں چلائی جائیں گی۔ حکومت نے حیدرآباد میٹرو ریل لمیٹیڈ کی صد فیصد حصہ داری کو منتقل کردیا ہے اور ح
حیدرآباد میٹرو ریل پریکم مئی سے حکومت کی راست نگرانی


حیدرآباد میٹرو ریل پریکم مئی سے حکومت کی راست نگرانیحیدرآباد، 29 اپریل (ہ س)۔ حیدرآباد میٹروریل فیزI خدمات یکم مئی سے تلنگانہ حکومت کی راست نگرانی میں چلائی جائیں گی۔ حکومت نے حیدرآباد میٹرو ریل لمیٹیڈ کی صد فیصد حصہ داری کو منتقل کردیا ہے اور حیدرآباد میٹرو پوری طرح حکومت کے کنٹرول میں آچکی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نئے انتظامات کے تحت یکم مئی سے میٹرو خدمات حکومت کی نگرانی میں چلائی جائیں گی۔ حکومت نے حیدرآباد میٹرو ریل لمیٹیڈ کے نئے بورڈ آف ڈائرکٹرس کا تقررکیا ہے اورچیف سکریٹری رام کرشنا راؤ صدرنشین مقررکئے گئے۔ بورڈ آف ڈائرکٹرس میں جیش رنجن، وکاس راج، سندیپ کمار سلطانیہ، بی شیودھر ریڈی، اشوک ریڈی، جتیش پاٹل کو شامل کیا گیا۔ سرفرازاحمد آئی اے ایس کو منیجنگ ڈائرکٹراورشیویندرپرتاپ کو جوائنٹ منیجنگ ڈائرکٹرمقررکیا گیا۔ حیدرآباد میٹرو ریل کی مؤثر خدمات کے لئے 10 ارکان پر مشتمل یہ کمیٹی سرگرم ہوچکی ہے۔ واضح رہے کہ تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں 28 مارچ کو قرارداد منظور کرتے ہوئے حیدرآباد میٹرو ریل فیز I کو ایل اینڈ ٹی سے حکومت کے کنٹرول میں لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ حکومت نے اِس مرحلہ کی تکمیل کے لئے ایل اینڈ ٹی کو 2000 کروڑ ادا کئے ہیں۔ حکومت نے کمپنی کے 13000 کروڑ کے قرض کو بھی اختیار کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 30 اپریل تک حکومت کی جانب سے مساوی حصہ داری اور قرض کے طور پر جملہ 15000 کروڑ ادا کرتے ہوئے میٹرو ریل پروجیکٹ کو مکمل تحویل میں لیا جائے گا

۔۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande