
ممبئی ، 29 اپریل (ہ س)۔ مہاراشٹر حکومت نے ریاست میں شجرکاری کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے “گرین مہاراشٹر کمیشن” کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی صدارت میں ہونے والی کابینہ میٹنگ میں کیا گیا۔ریاست نے 2047 تک 300 کروڑ درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کی منصوبہ بندی، عمل درآمد اور نگرانی کی ذمہ داری اس کمیشن کو سونپی جائے گی۔ کمیشن کے گورننگ بورڈ کے سربراہ وزیر اعلیٰ ہوں گے، جبکہ نائب وزیر اعلیٰ نائب صدر اور جنگلات، ماحولیات، زراعت اور روزگار ضمانت اسکیم کے وزرا شریک صدر ہوں گے۔قومی جنگلاتی پالیسی 1988 کے مطابق ملک کے کل رقبے کا 33 فیصد حصہ جنگلات یا درختوں سے ڈھکا ہونا چاہیے، تاہم مہاراشٹر میں یہ شرح اس وقت تقریباً 21.25 فیصد ہے، جس میں 16.53 فیصد جنگلاتی اور 4.72 فیصد درختوں پر مشتمل رقبہ شامل ہے۔ حکومت کا مقصد اس تناسب کو بڑھا کر 33 فیصد تک لے جانا ہے۔اس ہدف کے حصول کے لیے ریاست بھر میں وسیع پیمانے پر شجرکاری مہم چلائی جائے گی، جس کے لیے تقریباً 27 لاکھ ہیکٹر زمین درکار ہوگی۔ اس وقت تقریباً 29 ہزار مربع کلومیٹر زمین دستیاب ہے، جبکہ مزید زمین کی فراہمی کے لیے “لینڈ بینک” تیار کیے جائیں گے۔کمیشن کے ذریعے جنگلاتی اور گھاس زار علاقوں کے معیار اور وسعت میں اضافہ، موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں بہتری، پانی کے ذخائر کی مضبوطی، زمین کی زرخیزی میں اضافہ اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور قدرتی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ضلع سطح پر زمین کی نشاندہی کے لیے مختلف محکموں جیسے جنگلات، منریگا اور دیگر اداروں کے ساتھ تال میل قائم کیا جائے گا تاکہ شجرکاری کے لیے مطلوبہ وسائل اور زمین دستیاب ہو سکے۔اس اقدام سے ریاست میں جاری مختلف شجرکاری پروگراموں کو یکجا کر کے مؤثر انداز میں نافذ کرنا ممکن ہوگا، جس سے مہاراشٹر میں ماحولیات کے تحفظ اور پائیدار ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے