سرکاری محکموں، پبلک سیکٹر یونٹس اور سیکورٹی اداروں پر بجلی کے بقایا جات 3,747 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئے
جموں, 02 اپریل (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو اسمبلی میں بتایا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں سرکاری محکموں، پبلک سیکٹر یونٹس اور سیکورٹی اداروں پر بجلی کے بقایہ جات 3,747 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئے ہیں، جن کا بڑا ح
Cm


جموں, 02 اپریل (ہ س)۔

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو اسمبلی میں بتایا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں سرکاری محکموں، پبلک سیکٹر یونٹس اور سیکورٹی اداروں پر بجلی کے بقایہ جات 3,747 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئے ہیں، جن کا بڑا حصہ اہم انفراسٹرکچر اور یوٹیلیٹی محکموں پر مشتمل ہے۔یہ تفصیلات پی ڈی پی کے رکن اسمبلی آغا سید منتظر مہدی کے سوال کے جواب میں پیش کی گئیں۔ وزیر اعلیٰ، محکمہ بجلی (پی ڈی ڈی) کے بھی انچارج ہیں، اُنہوں نے بتایا کہ مجموعی بقایا رقم 3,74,735.42 لاکھ روپے ہے، جس میں کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (کے پی ڈی سی ایل) کے ذمے 2,31,022.41 لاکھ روپے جبکہ جموں پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (جے پی ڈی سی ایل) کے ذمے 1,43,713.01 لاکھ روپے شامل ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای) سب سے بڑا نادہندہ ہے جس پر 1,30,043 لاکھ روپے واجب الادا ہیں، اس کے بعد محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول پر 58,059.72 لاکھ روپے بقایا ہیں۔

سیکورٹی اداروں میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) پر 29,638.45 لاکھ روپے، فوج پر 19,719.94 لاکھ روپے جبکہ بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) پر 1,116.87 لاکھ روپے واجب الادا ہیں۔

محکمہ داخلہ پر 22,306.46 لاکھ روپے، ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ محکمہ پر 14,449.47 لاکھ روپے، جبکہ خود محکمہ بجلی پر 10,756.53 لاکھ روپے اور پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن پر 2,277.51 لاکھ روپے کے بقایا جات ہیں۔بلدیاتی اداروں کا بھی بڑا حصہ ہے، جہاں صرف میونسپلٹیز پر 24,163.80 لاکھ روپے واجب الادا ہیں۔ اس کے علاوہ محکمہ ریونیو و ریلیف پر 8,227.62 لاکھ روپے اور محکمہ صحت و طبی تعلیم پر 11,989.31 لاکھ روپے بقایا ہیں۔دیگر محکموں میں محکمہ سیاحت (4,759.05 لاکھ روپے)، محکمہ تعلیم (2,866.40 لاکھ روپے)، محکمہ تعمیرات عامہ (آر اینڈ بی) (1,951.21 لاکھ روپے) اور محکمہ دیہی ترقی (1,062.95 لاکھ روپے) شامل ہیں۔اعداد و شمار میں این ایچ پی سی، این ایچ اے آئی، ریلوے، پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا، بی ایس این ایل اور پراسار بھارتی سمیت کئی مرکزی اداروں اور پبلک سیکٹر یونٹس کے بقایا جات بھی شامل ہیں، جبکہ جے ڈی اے، یو ڈی اے، سڈکو اور ایس آر ٹی سی جیسے ترقیاتی ادارے بھی نادہندگان میں شامل ہیں۔اپنے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ڈسکامس بقایا جات کی وصولی کے لیے متعلقہ محکموں اور اداروں کے ساتھ سرگرمی سے کام کر رہی ہیں۔یہ انکشاف جموں و کشمیر کے بجلی شعبے پر بڑھتے مالی دباؤ کو ظاہر کرتا ہے، جہاں بقایا جات کا بڑا حصہ سرکاری اور ادارہ جاتی استعمال میں پھنسا ہوا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande