جموں و کشمیر میں پیدا ہونے والی بجلی کا صرف 12 فیصد حصہ ہی جموں و کشمیر کو ملے گا: پی ڈی پی
جموں, 02 اپریل (ہ س)پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما اور ایم ایل اے وحید الرحمان پرانے جمعرات کو انکشاف کیا کہ جموں و کشمیر حکومت نے دو نئی پن بجلی منصوبے اُڑی اسٹیج دوم (240 میگاواٹ) اور ڈول ہستی اسٹیج دوم (260 میگاواٹ) قومی ہائیڈرو پاور کارپوریشن (
جموں و کشمیر میں پیدا ہونے والی بجلی کا صرف 12 فیصد حصہ ہی جموں و کشمیر کو ملے گا: پی ڈی پی


جموں, 02 اپریل (ہ س)پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما اور ایم ایل اے وحید الرحمان پرانے جمعرات کو انکشاف کیا کہ جموں و کشمیر حکومت نے دو نئی پن بجلی منصوبے اُڑی اسٹیج دوم (240 میگاواٹ) اور ڈول ہستی اسٹیج دوم (260 میگاواٹ) قومی ہائیڈرو پاور کارپوریشن (این ایچ پی سی) کے حوالے کر دیے ہیں، جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 500 میگاواٹ ہے۔انہوں نے بتایا کہ این ایچ پی سی لمیٹڈ اور جموں و کشمیر اسٹیٹ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے درمیان اس معاہدے پر 27 مارچ کو دستخط کیے گئے۔ ان کے مطابق مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی شرائط کے تحت جموں و کشمیر کو ان منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی کا صرف 12 فیصد حصہ ملے گا، جبکہ باقی بجلی قومی گرڈ کو منتقل کی جائے گی۔پر انے کہا کہ اس صورتحال میں جموں و کشمیر حکومت کو اپنی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے بازار سے بجلی خریدنی پڑے گی، جس سے مالی بوجھ میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ منصوبے 40 برس تک بی او او ٹی بیولڈ اون ،اوپریٹ ٹرانسفر ماڈل کے تحت چلائے جائیں گے، جس کے بعد انہیں واپس جموں و کشمیر کے حوالے کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ 2006 میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے سی رنگاراجن کی سربراہی میں ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا تھا، جس نے ڈول ہستی اور برسَر منصوبوں کو جموں و کشمیر کو منتقل کرنے کی سفارش کی تھی، تاہم اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2011 میں اُس وقت کی نیشنل کانفرنس حکومت نے ایک کابینہ ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دی تھی، جس نے ان منصوبوں سے متعلق شرائط کا جائزہ لیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande