
جموں, 02 اپریل (ہ س)۔
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو اسمبلی میں بتایا کہ جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی (جے ڈی اے) کی زیر نگرانی 16 ہزار سے زائد کنال اراضی اس وقت ناجائز قبضے میں ہے، جبکہ ان قبضوں کو مرحلہ وار اور مقررہ مدت کے تحت ہٹانے کی کارروائیاں جاری ہیں۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن اسمبلی ڈاکٹر نریندر سنگھ رینا کے سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جے ڈی اے کے پاس مجموعی طور پر 80,976 کنال اور 10 مرلہ زمین ہے، جس میں سے 16,127 کنال اور 10 مرلہ اراضی پر غیر قانونی قبضہ کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان قبضوں کی نشاندہی فیلڈ عملے کی جانب سے کیے جانے والے معائنوں اور محکمہ ریونیو کے ریکارڈ کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ غیر مجاز قابضین کے خلاف جموں و کشمیر پبلک پریمیسز (ایویکشن آف ان آتھرائزڈ آکیوپینٹس) ایکٹ کے تحت نوٹس جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ ضلع انتظامیہ اور پولیس کے اشتراک سے باقاعدہ انسدادِ تجاوزات اور انہدامی مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نئے قبضوں کو روکنے کے لیے فیلڈ معائنے باقاعدگی سے کیے جا رہے ہیں اور غیر قانونی قابضین کے خلاف کارروائی قانون کے مطابق شفاف انداز میں عمل میں لائی جا رہی ہے۔
قبضہ کرنے والوں کی تفصیلات سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ جے ڈی اے کے پاس ایسے ریکارڈ موجود نہیں جو قابضین کو سیاستدانوں، بیوروکریٹس، نجی افراد یا تنظیموں کے لحاظ سے تقسیم کرتے ہوں۔انہوں نے کہا کہ قابضین کی فہرستیں محکمہ ریونیو سے موصول ہوتی ہیں اور انہیں زمین یا مقام کے لحاظ سے محفوظ رکھا جاتا ہے، جبکہ تمام کارروائیاں قانونی تقاضوں کے مطابق شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بناتے ہوئے انجام دی جا رہی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر