
غزہ ،02اپریل (ہ س )۔
مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں نے اسرائیل کے نئے سزائے موت کے قانون کے خلاف بھرپور احتجاج کرتے ہوئے مکمل ہڑتال کی ہے، فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت فتح کی اپیل پر دکانیں، تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر بند رہے۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق رام اللہ میں سیکڑوں مظاہرین نے ریلی نکالی اور اسرائیلی حکومت کے خلاف نعرے لگائے، مظاہرین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ قانون کو فوری طور پر واپس لیا جائے، نابلس میں احتجاج کے دوران مظاہرین نے ایسے بینرز اٹھائے جن پر قیدیوں کو پھانسی دینے کے قانون کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق الخلیل، رام اللہ اور نابلس میں بیشتر بازار بند رہے، یروشلم کے قریب عناتا قصبے میں اسرائیلی فوجیوں نے ہڑتال میں شامل دکانداروں کو زبردستی دکانیں کھولنے پر مجبور کیا۔
واضح رہے کہ نیا قانون اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ نے منظور کیا ہے جس کے تحت مغربی کنارے میں مہلک حملوں کے الزام میں فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے فلسطینیوں کو بطورِ بنیادی سزا سزائے موت دی جا سکے گی۔
اس قانون کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون فلسطینیوں اور اسرائیلی شہریوں کے لیے الگ اور غیر مساوی قانونی نظام قائم کرے گا۔دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے قانون کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ علاقوں کے رہائشیوں پر اس کا اطلاق جنگی جرم قرار دیا ہے۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق رام اللہ میں مظاہرے میں شریک ایک خاتون ماہرِ نفسیات نے ’الجزیرہ‘ کو بتایا کہ تقریباً ہر فلسطینی خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد جیل میں ہے، اس لیے عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی جیلوں میں اس وقت 9500 سے زائد فلسطینی قید ہیں جن میں 350 بچے اور 73 خواتین شامل ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ قیدیوں کو تشدد، خوراک کی کمی اور طبی سہولتوں کی عدم فراہمی کا سامنا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل 1967ء سے مغربی کنارے پر قابض ہے جبکہ اکتوبر 2023ء سے غزہ جنگ کے بعد علاقے میں کشیدگی اور تشدد میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ