
بھوپال، 18 اپریل (ہ س)۔ دارالحکومت بھوپال میں ہفتہ کو ’ادھیاپک-شکشک سنیکت مورچہ‘ کے بینر تلے پوری ریاست کے ٹیچروں نے بڑا احتجاج کیا۔ ’وزیر اعلیٰ انرودھ یاترا‘ کے تحت بی ایچ ای ایل واقع دسہرہ میدان میں منعقدہ اس احتجاج میں مختلف اضلاع سے آئے ہوئے تقریباً 50 ہزار سے زائد ٹیچروں نے حصہ لیا۔ پروگرام کے اختتام پر ٹیچروں نے ایم پی نگر ایس ڈی ایم کو میمورنڈم سونپ کر اپنے مطالبات سے آگاہ کیا۔
سنیکت مورچہ کے رہنماوں نے کہا کہ اگر حکومت ان کے مطالبات پر جلد فیصلہ نہیں لیتی ہے، تو جون کے مہینے میں مزید بڑی تحریک کی حکمت عملی اپنائی جائے گی۔ سنگھ کے صدر بھرت پٹیل نے اس سلسلے میں حکومت کو وارننگ بھی دی۔ مورچہ کے کنوینر جگدیش یادو نے کہا کہ اگر حکومت امتحان منعقد کرنا چاہتی ہے، تو اساتذہ کو کافی وقت دیا جانا چاہیے اور انہیں مردم شماری جیسے اضافی کاموں میں نہ الجھایا جائے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پہلے سے ملازمت کر رہے اساتذہ پر دوبارہ ٹیچر ایلیجبلٹی ٹیسٹ (ٹی ای ٹی) نافذ کرنا مناسب نہیں ہے، کیونکہ تقرری کے وقت انہوں نے تمام ضروری اہلیتیں پوری کی تھیں۔ 25-20 برسوں کی ملازمت کے بعد نئی شرائط نافذ کرنا ناانصافی قرار دیا گیا۔
اساتذہ کے مطابق، سپریم کورٹ کے حالیہ حکم سے ریاست کے 90 سے 95 فیصد اساتذہ متاثر ہوئے ہیں، خاص طور پر وہ جو پہلے ’ادھیاپک‘ تھے اور بعد میں ٹیچر کیڈر میں شامل ہوئے۔ ان اساتذہ نے کم تنخواہ پر نوکری شروع کی تھی اور اب بھی پنشن، گریجویٹی اور سروس کی مدت کے حساب جیسے مسائل پر جدوجہد کر رہے ہیں۔ سنیکت مورچہ نے حکومت پر الزام لگایا کہ تقرری کی اصل تاریخ سے سروس کا حساب نہیں لگایا جا رہا، جس سے مالی نقصان ہو رہا ہے۔ اب ٹی ای ٹی کی شرط نافذ ہونے سے ان پر اضافی دباو بن رہا ہے اور مستقبل میں پنشن و گریجویٹی کم ملنے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔
احتجاج کے دوران دسہرہ میدان میں بھاری بھیڑ امڈ پڑی، جس کی وجہ سے پنڈال چھوٹا پڑ گیا اور کئی اساتذہ کو درختوں کے نیچے بیٹھنا پڑا۔ پولیس بیریکیڈنگ کے باعث مظاہرین کو اپنی گاڑیاں دور ہی روکنی پڑیں اور پیدل ہی پروگرام کے مقام تک پہنچنا پڑا۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے 8 اپریل کو ضلع سطح اور 11 اپریل کو بلاک سطح پر بھی احتجاج کیے جا چکے ہیں۔ اسی تسلسل میں یہ ریاستی سطح کا احتجاج منعقد کیا گیا۔ آخر میں اساتذہ نے ایم پی نگر ایس ڈی ایم ایل کے کھرے کو میمورنڈم سپرد کرکے جلد حل کا مطالبہ کیا اور پرامن طریقے سے احتجاج ختم کیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن