
سپول، 18 اپریل (ہ س)۔ ضلع کے بھپٹیاہی تھانہ علاقے کے پپراکھرد چوک میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں انجکشن دینے سے 10 سالہ بچی کی موت ہو گئی۔ واقعہ سے اہل خانہ اور مقامی لوگوں میں شدید ناراضگی ہے۔
اطلاعات کے مطابق پپراکھرد وارڈ نمبر 6 کے رہنے والے سیتارام شرما کی پوتی شیوانی کماری تیز بخار میں مبتلا تھی۔ اس کے گھر والے اسے علاج کے لیے گاؤں کے چوک میں ایک میڈیکل دکان پر لے گئے۔ دکان کے مالک ودیاآنند منڈل نے بچی کوانجکشن لگایا۔ اس وقت اس کا درجہ حرارت مبینہ طور پر 102 ڈگری کے قریب تھا۔
اہل خانہ کے مطابق وہ رات 8 بجے کے قریب انجکشن لگواکر لڑکی کو گھر لے آئے۔حالانکہ 20 منٹ کے اندر اس کی حالت اچانک خراب ہوگئی۔ اس کے ہاتھ اورپیت سکڑنے لگیں اور وہ ہوش کھونے لگی۔ تشویشناک حالت دیکھ کر گھر والے گھبرا گئے اور اسے دوبارہ اسی ڈاکٹر کے پاس لے گئے جنہوں نے انہیں فوراً اسپتال لے جانے کا مشورہ دیا۔ اس کے بعد گھر والوں نے لڑکی کو راگھوپور ریفرل اسپتال لے جانے کی کوشش کی، لیکن راستے میں ہی موت ہوگئی۔ راگھوپور ریفرل اسپتال پہنچنے پر ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر انظر احمد نے جانچ کے بعد اسے مردہ قرار دے دیا۔
متوفی کے ماموں رنجیت کمار نے الزام لگایا کہ ان کی بھانجی کی موت ڈاکٹر کے غلط انجکشن کی وجہ سے ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انجکشن لگنے کے فوراً بعد بچی کی حالت بگڑ گئی جو واضح طور پر غفلت کی نشاندہی کرتی ہے۔
اہل خانہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ ایسے واقعات دیہی علاقوں میں بغیر کسی سند کے پریکٹس کرنے والے لوگوں کے تئیں انتظامیہ کی لاپروائی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔
اپنے دفاع میں ملزم ودیانند منڈل نے کہا کہ اس نے بخار کے علاج کے لیے صرف ایک سادہ انجکشن دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ 35 سالوں سے دیہی علاقوں میں لوگوں کا علاج کر رہے ہیں اور کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی۔
دریں اثنا مقامی تھانہ انچارج نے کہا کہ درخواست موصول ہونے کے بعد تحقیقات کی جائے گی۔ اگر کوئی قصوروار پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ واقعہ کے بعد علاقے میں شدید ناراضگی ہے ۔ مقامی لوگوں نے ضلع مجسٹریٹ سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan