ہائی کورٹ میں ججوں کی خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے 11 ناموں کی سفارش
جموں، 18 اپریل (ہ س)۔ جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے کولیجیم نے ہائی کورٹ میں ججوں کی خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے 11 ناموں کی سفارش کی ہے۔ کولیجیم کی سربراہی چیف جسٹس ارون پلی نے کی۔ باخبر ذرائع کے مطابق سفارش کردہ ناموں میں بار کوٹہ سے 10
Jk Highcurt


جموں، 18 اپریل (ہ س)۔ جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے کولیجیم نے ہائی کورٹ میں ججوں کی خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے 11 ناموں کی سفارش کی ہے۔ کولیجیم کی سربراہی چیف جسٹس ارون پلی نے کی۔

باخبر ذرائع کے مطابق سفارش کردہ ناموں میں بار کوٹہ سے 10 وکلاء اور بنچ کوٹہ سے ایک عدالتی افسر شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب ایک ہی مرحلے میں اتنی بڑی تعداد میں تقرریوں کے ناموں پر غور کیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ چیف جسٹس نے حتمی فہرست ارسال کرنے سے قبل سینئر جج صاحبان جسٹس سنجیو کمار اور جسٹس سندھو شرما سے تفصیلی مشاورت کی۔ بعد ازاں فہرست جموں و کشمیر لوک بھون کے علاوہ سپریم کورٹ کولیجیم اور مرکزی وزارت قانون کو بھی ارسال کی گئی۔ اس عمل کے دوران مختلف خطوں ضاور سماجی طبقات کی نمائندگی کو بھی مدنظر رکھا گیا۔

بار کوٹہ سے جن ناموں کی سفارش کی گئی ہے ان میں وشال شرما، نمگیال وانگچک، جہانگیر اقبال گنائی، پون کمار کنڈل، طاہر مجید شمسی، تبسم ظفر، انوپم رینہ، وکرم کمار شرما، امیت گپتا اور پرنو کوہلی شامل ہیں۔

بنچ کوٹہ سے سینئر عدالتی افسر یش پال بورنے، جو اس وقت جموں و کشمیر ٹریبونل کے رکن ہیں، اُن کو بھی جج کے طور پر ترقی دینے کی سفارش کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق خواتین کی نمائندگی کے پیش نظر تبسم ظفر کا نام شامل کیا گیا ہے اور اگر ان کی تقرری عمل میں آتی ہے تو وہ کشمیر سے ہائی کورٹ کی پہلی خاتون جج ہوں گی۔

قابل ذکر ہے کہ ہائی کورٹ اس وقت 25 منظور شدہ ججوں کے مقابلے میں صرف 13 ججوں کے ساتھ کام کر رہی ہے، جس کے باعث 12 آسامیاں خالی ہیں۔ موجودہ اقدام انہی آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ نومبر 2024 میں مرکزی وزارت قانون و انصاف نے ہائی کورٹ کی ججوں کی تعداد 17 سے بڑھا کر 25 کر دی تھی تاکہ مقدمات کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande