
علی گڑھ, 18 اپریل (ہ س)علی گڑھ مسلم یونیورسٹیکی لا فیکلٹی میں آج اُس وقت ہنگامہ کھڑا ہوگیاجب طلبہ نے کم حاضری کی بنیاد پر امتحان میں بیٹھنے سے روکے جانے کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ طلبہ کا الزام ہے کہ انہیں امتحان سے محروم کیا جارہا ہے، جبکہ اس سے قبل ایسے معاملات میں کئی بار انتظامیہ طلبہ کو اجازت دے چکی ہے۔احتجاج کے دوران اُس وقت صورتحال مزید خراب ہوگئی جب پروکٹر ٹیم اور طلبہ کے درمیان تلخ کلامی کے بعد دھکم پیل شروع ہوگئی۔ عینی شاہدین کے مطابق پروکٹر ٹیم نے کارروائی کے دوران ایک دروازہ توڑ کر اندر داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کے رویّے پر سنگین سوالات کھڑے کئے جارہے ہیں۔طلبہ کا کہنا ہے کہ یہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے، اس سے پہلے بھی حاضری کے مسئلے پر طلبہ کو امتحان سے روکا گیا، لیکن بعد میں انہیں اجازت دے دی گئی۔ ایسے میں اس بار ضرورت سے زیادہ سختی کیوں برتی جا رہی ہے۔احتجاج کرنے والے طلبہ نے انتظامیہ کے خلاف شدید نعرہ بازی کی اور الزام لگایا کہ ان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی ہے۔ دوسری جانب پروکٹر ٹیم کے رویّے پر بھی بڑے پیمانے پر ناراضگی پائی جا رہی ہے۔اس پورے معاملے میں طلبا یونین کے سابق نائب صدر محمد ندیم انصاری نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ معاملہ میں اہم سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ جب طلبہ کے خلاف فوراً ایف آئی آر درج کی جا سکتی ہے، تو سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں پروکٹر ٹیم کے خلاف کارروائی کب تک ہوگی؟فی الحال شعبہ قانون فیکلٹی کیمپس میں طلبہ کا احتجاج جاری ہے، جبکہ اے ایم یو انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ